//

کراچی کے مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ بر قرار.

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

وش ویب:کراچی میں شدید گرمی کے باوجود مختلف علاقوں میں 18،18گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، بجلی کی بندش کی وجہ سے شہریوں کو پانی کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے، جس کے خلاف شہریوں کی جانب سے مختلف مقامات پر احتجاج کیا گیا ہے۔کراچی کے علاقے لائنز ایریا سمیت مختلف علاقوں میں 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے علاقہ مکین بلبلا اٹھے، شہریوں نے شکوہ کیا کہ مسلسل بجلی کی بندش سے وہ ذہنی اذیت کا شکار ہوچکے ہیں۔کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور پانی کی بندش کے خلاف مختلف مقامات پر احتجاج کیا گیا، بجلی کی بندش کے خلاف شاہین کمپلیکس ، ہجرت کالونی، سلطان آباد اور سٹی ریلوے کالونی کے علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا۔مظاہرین کی جانب سے کے الیکٹرک کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور آئی آئی چندریگر روڈ کو ٹریفک کے لئے بند کیا گیا، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔اس کے علاوہ، گرومندر پر بھی پانی و بجلی کی عدم فراہمی پر شہریوں نے مظاہرہ کیا، مظاہرین نے سڑک کے دونوں ٹریک بند کردیئے، شاہراہ قائدین پر بھی خداد کالونی کے مکینوں نے بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج کیا۔شہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا کوئی وقت اور دورانیہ مقرر نہیں ہے، دن میں 4 سے 5 بار بجلی جاتی ہے، اپنی مرضی سے کبھی آدھا گھنٹہ تو کبھی ایک گھنٹے بجلی بحال کرنے کے بعد دوبارہ بند کردی جاتی ہے۔دیہاڑی پر مزدوری کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ دن بھر کڑی دھوپ میں کام کرنے کے بعد جب آرام کی غرض سے گھر جاتے ہیں تو رات بھر بجلی نہیں ہوتی، 24 گھنٹے کا یہی معمول ہے، مشکل سے 5 سے 6 گھنٹے بجلی آتی ہے۔دوسری جانب، کے الیکٹرک نے دعویٰ کیا ہے کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے 2024 میں بڑی کارروائیاں کی گئی ہیں، اس دوران بجلی چوری میں استعمال ہونے والی تین لاکھ کلو گرام تاریں ضبط کی گئیں۔ادھر، سندھ ہائی کورٹ میں جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف دائر درخواست میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک کو بالخصوص ہیٹ ویو میں بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے۔درخواست میں کہا گیا کہ ٹیکنیکل فالٹس بھی کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہیں، انہیں درست کیا جائے، کراچی میں 16 گھنٹے کی روزانہ اوسط لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، اب راتوں میں بھی 2 سے 4 گھنٹے لوڈ شیڈنگ شروع کردی گئی ہے،۔جماعت اسلامی نے درخواست میں مزید کہا کہ ہیٹ ویو کی وجہ سے سیکڑوں شہری روزانہ اسپتال لائے جا رہے ہیں،کراچی شہر ملکی خزانے میں سب سے زیادہ ریونیو جمع کراتا ہے، کے الیکٹرک کی کارکردگی سے کراچی کا کاروباری طبقہ اور طالب علم بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »