//

بلوچستان میں 14000مریضوں میں ٹی بی کی تشخیص اور انہیں علاج معالجے کی سہولیات کو یقینی بنایا، صوبائی منیجر ٹی بی کنٹرول پروگرام

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

وش ویب: صوبائی منیجر ٹی بی کنٹرول پروگرام محکمہ صحت بلوچستان ڈاکٹر آصف انورشاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ سال14000مریضوں میں ٹی بی کی تشخیص کے بعد انکے علاج کو یقینی بنایا گیا.

جس سے ٹی بی کی روک تھام بھی ممکن ہوئی ،صوبے کے تمام اضلاع میں ٹی بی کے مریضوں کی تشخیص اور علاج معالجے کے سینٹروں کی تعداد138سے بڑھاکر200کردی گئی ہے ۔یہ بات انہوں نے ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر فہیم خان ،مرسی کور کے ٹیم لیڈر ڈاکٹرسعیدا للہ خان ،ایس پی او بلوچستان کے پروجیکٹ منیجر امداد علی ،گرین اسٹار کے ڈاکٹر خالد اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹی بی کا عالمی دن 24مارچ کو منایا جاتا ہے ٹی بی ایک مہلک مرض ہے، لیکن یہ سو فیصد قابل علاج ہے صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگرام محکمہ صحت بلوچستان سال2024ءمیں وزیراعلیٰ میرسرفراز بگٹی،سیکرٹری صحت عبداللہ خان ،ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹرفاروق ہوت کی ہدایات کی روشنی میں ایک نئے عزم کے ساتھ ٹی بی کے خاتمے کیلئے جدوجہد کر رہا ہے ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کو ٹی بی کی مہلک بیماری سے پاک کیا جائے اس سلسلے میں صوبائی ٹی بی کنٹرول پروگرام اپنے شراکت داروں مرسی کور،ایس پی او ،گرین سٹار ،سوشل مارکیٹنگ ،ترقی فاونڈیشن اوردوپاسی فاونڈیشن کے تاون سے متاثر ہونے والے افراد ،خاندانوں ،قیدیوں اور منشیات کے عادی افراد کیلئے تشخیصی ٹیس کیلئے خصوصی کیمپس کا انعقاد کر رہا ہے صوبے کے مختلف اضلاع میں 47سینٹروں کو ٹی بی کی تشخیص کیلئے Gene-Xpertمشین مہیا کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے 16اضلاع میں پی پی ایم یعنی گورنمنٹ اور نجی شعبہ میں کام کرنے والے اداروں کے اشتراک سے 255پرائیویٹ ڈاکٹروں کے ذریعے ٹی بی کے مریضوں کو مفت علاج کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے ۔ ٹی بی کا مریض ایک سال میں10سے 15افراد کو ٹی بی کے جراثیم منتقل کرسکتا ہے. لہذا ٹی بی کے مریضوں کی جلد سے جلد نشاندہی کرنا اوران کے علاج کا مناسب بندوبست کرنا ہی اسکی روک تھام کا واحد اوریقینی راستہ ہے۔ سال2023میں ٹی بی کنٹرول پروگرام نے تمام ترمشکلات کے باوجود14000مریضوں میں ٹی بی کی تشخیص اور انہیں علاج معالجے کی سہولیات کو یقینی بنایا۔انہوں نے کہا کہ ٹی بی کی ایک خطرناک قسم جسے مزاحمتی ٹی بی (Drug-ResistenceTB)کہا جاتا ہے جس کا علاج جو نہ صرف کافی مہنگا بلکہ مشکل بھی ہے جس کی تشخیص سے لیکر علاج تک کی مکمل سہولیات عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ طریقہ علاج جن میں جدید بین الاقوامی ادویات اور مریض کو دوران علاج مناسب خوراک اور علاج کے دوران رابطے کیلئے سفری خرچ بھی دیاجاتا ہے یہ سہولت کوئٹہ کے ایف جے ہسپتال ،لورالائی ،تربت ،لسبیلہ کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں فراہم کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ٹی بی کنٹرول پروگرام نے ضلعی سطح پر33ڈسٹرکٹ ٹی بی آفیسر اور 7ڈویژنل کوارڈی نیٹرز کو تعینات کیا صوبے کے تحت اضلاع کے سنٹرز کو عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے 138ریفریجرنٹیر فراہم کئے گئے ۔اس وقت بلوچستان میں ایکٹیوکیس فائنڈنگ کیلئے مختلف جگہوں جیسے جیلوںاوردورافتادہ علاقوں میں جدید آلات سے آراستہ 10موبائل وینز کے ذریعے صوبے کے تمام اضلاع میں چیسٹ کیمپس منعقد کئے جارہے ہیں. صوبے کے تمام بڑے ہسپتالوں کو جدید آلات جیسےCobasمشین ،انسینیریٹرز اور آٹو کلیومشینیں مہیا کی گئی ہیںایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر آصف شاہوانی نے بتایا کہ ٹی بی کی ادویات کے نجی سطح پر غلط استعمال کی روک تھام اور ٹی بی کے مریضوں کی پرائیویٹ سطح پر تشخیص کی سرکاری سطح پر نشاندہی کیلئے قانون سازی کا بل تیار کرکے منظوری کیلئے جمع کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »