بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے بولان میڈیکل کالج کے اسٹوڈنٹس نے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور پشتون اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والے طلبا بھی شمل تھے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بولان میڈیکل کالج میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں کوئٹہ پولیس نے تمام تر روایات کو پامال کرتے ہوئے بی ایم سی کے ہاسٹل پر دھاوا بول کر پورے ہاسٹل کو قبضہ میں لے کر طالبعلموں پر تشدد کر کے انہیں زبر دستی گر فتار کیا۔ طلباء پر آنسو گیس کا استعال کر کے ان پر تشدد کیا گیا اور فیمیل طالبعلموں کو زدو کوب کیا گیا۔ یہ سارے اعمال پولیس کی غنڈی گردی سوچ و کالج انتظامیہ کی نااہلی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس فسوسناک واقیعہ کے زمہ دار کوئٹہ پولیس سمیت، کالج انتظامیہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بولان میڈیکل کالج میں طلبہ کے درمیان ایک معمولی لڑائی ہوئی تھی جس کو ہم اپنے طریقے سے پر امن طور پر حل کرنے کے لیے کوشاں تھے مگر کوئٹہ پولیس نے غنڈہ گردی کرتے ہوئے درمیان میں دخل دیا جس سے بات بگڑ کر اس نہج پر پہنچی ۔پولیس و انتظامیہ نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت طالبعلموں کے درمیان چھوٹے سے مسئلہ کو جواز بنا کر بی ایم سی ہاسٹل میں داخل ہو کر بہت سے بلوچ و پشتون طالبعلموں پر تشدد کر کے انہیں زبر دستی گرفتار کیا۔ جب اس عمل کے خلاف طلبہ نے مین گیٹ پر دھرنا دیکر طالبعلموں کی رہائی کا مطالبہ کیا کہ پولیس نے تمام تر بلوچ و پشتون روایات سمیت ملکی قوانین کو پامال کرتے ہوئے طلبہ پر چھڑائی کر کے ان پر آنسو گیس شیلنگ کی ، لاٹھی چارج کیا، فیمیل طالبات کے ساتھ ناروا زبان استعمال کر کے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ رات تک تمام بلوچ و پشتون گرفتار ساتھیوں کو رہا کیا جائے،ان کے خلاف جتنی بھی بوگس ایف آئی آر ہیں انہیں واپس لیا جائے، بی ایم سی کے تمام ہاسٹلوں کو کھول کر انہیں فعال کیا جائے اور اس واقعہ میں ملوث تمام ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے جن میں پولیس افسران سمیت کالج انتظامیہ شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر رات تک ان مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہو ا تو بلوچستان بھر کی طلبا تنظیموں کی جانب سے سخت احتجاجی رد عمل دیا جائے گا۔
بعد ازاں ان کی جانب سے کویٹہ پریس کلب کے سامنے احتتاجی مظاہرہ کیا گیا اور پولیس اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی ۔