//

بلوچستان میں بھی زراعت کا شعبہ انکم ٹیکس نیٹ میں آنے والا ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

وش ویب : آئی ایم ایف شرائط: کیاہیں بلوچستان میں بھی زراعت کا شعبہ انکم ٹیکس نیٹ میں آنے والا ہے؟باوثوق سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ زرعی انکم ٹیکس میں اصلاحات لانے کے حوالے سے آئی ایم ایف، پاکستان اور چاروں صوبائی حکومتوں کے درمیان review meetings کا سلسلہ کئی عرصے سے چل رہا ہے

۔آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ غیر ترقیاتی اخراجات کم کئے جائیں، صحت اور تعلیم کے شعبوں پر فوکس کرکے صوبے خسارے کا بجٹ نہ بنائیں تاکہ معاشی استحکام آسکے عالمی مالیاتی ادارے نے کا کہنا ہے کہ چونکہ 18 ویں ترمیم کے بعد زراعت پر انکم ٹیکس وصول کرنا صوبوں کا کام ہے، اس لیے صوبے خود اپنا زرعی انکم ٹیکس وفاقی انکم ٹیکس رجیم سے منسلک کرکے اکٹھا کریں اور اس میں بہتری لانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے تاکہ عوام کا پیسہ عوام پر احسن طریقہ سے خرچ کیا جا سکے، آئی ایم ایف نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ وفاقی انکم ٹیکس نظام کے ساتھ صوبائی زرعی انکم ٹیکس کے نظام کو آلائین کیا جائے اور نئی زرعی انکم ٹیکس رجیم جلد متعارف کروائی جائے اور اس مد میں زرعی انکم ٹیکس کے قانون میں ضروری ترامیم جلد از جلد مکمل کی جائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے زرعی انکم ٹیکس رجیم کا نفاذ 2025 میں کئے جانے کا امکان ہے۔آئی ایم ایف نے زراعت کے شعبے سے ٹیکس وصولی کو بڑھانے کی بات اس لئے کی ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جبکہ جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 23 فیصد ہے تاہم زرعی آمدن سے حاصل ہونے والا ٹیکس انتہائی کم ہے اس لئے عالمی ادارے کا خیال ہے کہ زرعی آمدن پر ٹیکس کی وصولی ہر صورت بڑھانی ہو گی،آئی ایم ایف نے زرعی ٹیکس کی وصولی کے لیے صوبوں اور وفاق کو مل کر پلان بنانے پر زور دیا ہے،اس پالیسی سے زراعت سے کروڑوں روپے کمانے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکتا ہے۔

اس وصولی سے صوبے کو اپنی آمدنی بڑھانے اور اس کے معاشی حالات سدھارنے میں مدد ملے گی، گزشتہ مالی سال کے دوران بلوچستان میں صرف 43 ملین روپے زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس وصول ہوا ہے، جوکہ انتہائی کم ہے، زرعی انکم ٹیکس رجیم کے نفاذ سے بلوچستان میں معاشی استحکام آے گا،اگر ملک بھر میں زرعی انکم ٹیکس نافذ کیا جائے اور صوبے یہ ٹیکس وصول کریں تو وفاق اور صوبوں کا مالیاتی خسارہ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چاروں صوبوں کے پاس زرعی شعبے سے ٹیکس ریونیو بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے لہذا زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کر کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »