//

بلوچستان اسمبلی میں 47 ارب روپے سے زائد کے 45 مطالبات زر کی منظوری

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

وش ویب: بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2023-24کے 47ارب روپے سے زائد کے 45مطالبات زر پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دیدی جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر کیپٹن(ر) عبدالخالق اچکزئی کے زیر صدارت 10منٹ کی تاخیر سے شرروع ہوا .

اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے ایوان میں 45مطالبات ز ر پیش کئے جو 47ارب روپے سے ز ائد کے تھے ایوان نے منظور کر لئے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر عام بحث مین اراکین نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو متوازن اور عوام دوست قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت پیش کردہ بجٹ پر مکمل عملدرآمد کر کے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیا ت کی فراہمی کو یقینی بنا ئے بجٹ بحث میں اظہار خیال ک رتے ہوئے صمد گورگیج نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے مسائل حل کریں ریکوڈک اور سیندک میں بلوچستان کے لوگوں کو نمائندگی دی جائے وفاق سیندک اور ریکوڈک کے منصوبے پر صوبے کے عوام کو اعتماد میں لیں .
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 30ہزار سے زائد گھوسٹ اساتذہ ہیں اسی طرح غیر فعال اسکولوں کو فعال کیا جائے کوئٹہ کے متعدد اسکولوں میں جانور باندے جارہے ہیں میرے حلقے میں کچھ لوگ واسا سے ملے ہیں وہ پرائیویٹ ٹیوب ویلز چلا رہے ہیں شہری ٹینکر مافیا سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں مایوسی کی عالم میں ایسا بجٹ پیش ہونا جس میں تمام مکاتب فکر کے لوگوں کے مسائل کا حل موجود ہو بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے ام کلثوم کا کہنا تھا کہ نا اہلی کی حد ہے کہ صوبے کے 99ارب روپے لیپس ہوئے ہیں تعلیم کو ترجیح دی گئی ہے. بجٹ کا ایک حصہ فنی تعلیم پر خرچ ہونی چاہیے ا نہوں نے کہا کہ وہاں اسکول بنائی جائیں جہاں ان کی ضرورت ہو ون ٹیچر کا کلچر ختم ہونا چاہیے یونیورسٹیوں کے معاملات کو دیکھا جائے تاکہ اساتذہ سڑکوں پر نہ آجائیں انہوں نے کہا کہ زمینداروں کو سبسڈی دیکر بجلی فراہم کی جائے بلوچستان کے خواتین باصلاحیت ہیں مگر ان کے پاس مواقع نہیں ہیں بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوان مایوس ہوکر باغی بن چکے ہیں نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے جس سے نوجوان کنارہ کشی کرنے پر مجبور ہیں بجٹ سیشن خطاب کرتے ہوئے بخت محمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ بلوچستان مالی بحران کا شکار ہے ملک کا غیر ملکی قرضہ 46ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے.
مہنگائی کی وجہ سے روپے کی قدر گرنے سے شہری پریشان ہیں ہمارے اساتذہ تعلیمی نظام سے مطمئن نہیں ہیں سب کے بچے نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز صحت کے نظام سے مطمئن نہیں ہیں جب تک صوبے میں گڈ گورننس نہیں ہوگا تبدیلی نہیں ا ٓئیگی انہوں نے کہا کہ صوبے میں موجودہ حکومت کے دور میں تبدیلی آئیگی بلوچستان میں اسکولوں سے باہر بچے سب سے بڑا چیلنج ہے موجودہ حکومت کا یہ ہنی مون پیریڈ ہے نا مساعد حالات میں آئیڈیل بجٹ پیش کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان مبارکباد کے مستحق ہے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف یونس عزیز زہری نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی نئی بلڈنگ بنانے کیلئے سب سے مشاورت کی جائے اسمبلی کی نئی عمارت کیلئے کمپنیوں کو ہائیر کیا جائے اور اچھا سا نقشہ بنوا یا جائے جس پر صوبائی وزیر پی اینڈ ای میر ظہور بلیدی نے کہا کہ اسمبلی کی عمارت نہیں بنوائی جائیگی عمارت کی مدت پوری ہوچکی ہے ماہرین سے رائے لیں گے اگر عمارت 10سے 15سال چل سکتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ گرا دینگے سابق وزیراعلیٰ رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر مالک بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر کہا کہ اسمبلی کی عمارت کو نہ گرائی جائے کچے گھر کافی عرصے سے چلتے ہیں اسمبلی کی عمار ت تو 70کی دہائی میں بنی ہے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقلیتی رکن سنجے کمار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں اقلیتوں کو شامل کرنا خوش آئند ہے.
عوام کے مسائل کو مد نظر رکھ کر آئندہ بھی وزیر اعلیٰ تعاون کرینگے پہلی بار صوبے میں متوازن بجٹ پیش کیا گیا ہے خاتون رکن صوبائی اسمبلی حادیہ نواز نے کہا کہ پی ڈی ایم اے مون سون سے قبل جعفر آباد میں ریلیف کیمپ قائم کریں بجٹ میں شعبہ تعلیم میں 52فیصد اضافہ خوش آئند ہے خاتون رکن صوبائی اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہا کہ گرین بلوچستان کا منصوبہ قابل ستائش ہے صوبے میں ٹرانس جینڈر کیلئے نوکریوں کا کوٹہ مختص کیا جائے صوبے کے فن کاروں کیلئے بھی مراعات کا اعلان کیا جائے ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ نے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تمام شعبوں کو مد نظر رکھ کر بجٹ بنا یا گیا ہے لوگوں کے بنیادی مسائل کو اولیت دی جائے روزگار اور صحت سب کیلئے ہونی چاہیے مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین کوخیراتی سیٹ پر آنے والی نہ کہا جائے مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین کو بھی اہمیت دی جائے خواتین ممبرز اسمبلی کو اراکین اسمبلی منتخب کرتے ہیں خواتین کی اسکیمات کو بھی بجٹ میں شامل کیا جائے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے کہا کہ بجٹ سے قومی اراکین کیساتھ اپوزیشن بھی مطمئن ہیں بلوچستان میں بہت سے مسائل ہیں جو کہ فوری حل نہیں کئے جاسکتے اگر بجٹ میں کسی رکن کو نظر انداز کیا گیا ہے اس کا مسئلہ حل کیا جائے نصیر آباد میں کتے کے کاٹنے کا انجیکشن تک موجود نہیں سیلابوں نے نصیر آباد کا نقشہ تبدیل کردیا ہے نصیر آباد کے تمام اضلاع میں پی ڈی ایم اے کیمپ قائم کریں حکومت اپنی ذمہ داری پوری کریں جدید دور میں بھی ہمارے بچے اسکولوں میں ٹاٹ پر بیٹھے ہیں جب تک یہ ایوان ٹھیک نہیں ہوتا اس وقت تک کرپشن ختم نہیں ہوسکتی انہوں نے کہا کہ عوام کیساتھ ایک پیناڈول گولی خریدنے کے پیسے نہیں ہیں بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے جمعیت علماءا سلام کے رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین کا کہنا تھا کہ سودی نظام میں کام کرتے ہوئے معیشت کیسے بہتر ہوسکتی ہے.
بلوچستان کا بجٹ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا بجٹ ہونا چاہیے بلوچستان نے ملک اور وفاق کو بہت کچھ دیا ہے پورے پاکستان کو گیس دی ہے کیا یہ قربانی کم ہے انہوں نے کہا کہ وفاق کے تعاون کے بغیر بلوچستان ترقی نہیں کرسکتا بلوچستان حکومت کا وفاق کیساتھ جس طرح روابط ہونی چاہیے اس طرح نہیں ہے اسلام آباد میں بلوچستان کا ایک سیکرٹریٹ بنا یا جائے 50ارب روپے پچھلی حکومت نے ٹف ٹائلوں اور تارکول پر لگائیں 50ارب روپے میں کوئٹہ شہر میں نیا شہر تعمیر کیا جاسکتاہے بلوچستان قدرتی معدنیا ت سے ما لا مال ہے بلوچستان میں معدنیا کیلئے فیکٹریا ں بنائی جائے صوبے میں فیکٹریاں بننے سے بے روزگاری میں کمی آئے گی بد قسمتی سے ہم کام نہیں کرنا چاہیے صحت اوار تعلیم میں گھوسٹ ملازمین کو ختم ہونا چاہیے سیلاب نے صوبے کوتباہ کردیا ہے صوبے میں پانی کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے چیک ڈیم بنا ئے جائے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر صادق عمرانی کا کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ حکومت کا اچھا کارنامہ ہے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے بلوچستان میں مخلوط حکومت تشکیل دی ہے رکن صوبائی اسمبلی اسد بلوچ کے الزامات بے بنیاد ہیں دہشتگردی کے خلاف قوم متحد ہیں اور فورسز کیساتھ ہیں صوبے کے بیشتر اضلاع بجلی سے محروم ہیں صوبے میں درختوں کی کٹائی پر پابندی ہونی چاہیے نہری نظام سے صوبے میں زرعی انقلاب آسکتا ہے 22سالوں سے کچی کینال مکمل نہیں ہوسکی.
موجودہ بجٹ میں کچی کینال کیلئے 10ارب روپے رکھے گئے ہیں جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی مجید بادینی نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جب تک امن نہیں ہوگا ترقی ناممکن ہے سندھ اور بلوچستان کی پولیس کے تنخواہوں میں فرق ہے سندھ کے ڈاکوﺅں کے پاس جو اسلحہ ہے وہ ہمارے پولیس کے پاس نہیں ہے 256اسکولوں کو سیلاب نے نقصان پہنچا یا ان اسکولوں کے اساتذہ فارغ بیٹھے ہیں سیلاب میں 35ہزار گھروں کو نقصان ہوا ہے جعفر آباد میں 256اسکولوں میں سے 80بند پڑے ہیں 150طلباءکیلئے ایک استاد موجود ہے 52ڈگر سینٹی گریڈ والے علاقے میں 2سے 4گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے آغا عمر زئی نے کہا کہ بلوچستان میں فنڈز کی کمی نہیں ہے بلکہ وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا فقدان ہے عوام مہنگا اجلاس نہیں کرواسکتے ہیں سیلاب پیکج بہترین پیکج ہے جس سے عوام کو ریلیف ملا انہوں نے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان صالح بھوتانی کے گھر پر پولیو چھاپے کے خلاف ایوان سے واک آﺅٹ کیا بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ظفر آغا نے کہا کہ وفاق نے ہمیشہ کم فنڈز فراہم کئے ہیں چیک پوسٹوں پر عوام کو تنگ کیا جاتا ہے بلوچستان میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنا یا جائے بلوچستان اسمبلی اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ نے 2023-24کے 45مطالبات زر پیش کئے جس پر ایوان نے منظور ی دیدی جس پر اسپیکر نے اجلاس جمعہ کے شام 4بجے تک ملتوی کردیا ۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »