//

وزیراعلیٰ بلوچستان سے پوچھنا چاہتا ہوں اگر بجٹ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہی بنانا تھا تو محکمہ پی اینڈ ڈی کی کیا ضرورت ، اسد اللہ بلوچ

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

وش ویب: کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ و رکن بلوچستان اسمبلی میر اسد اللہ بلوچ نے کویٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مالی سال 2024-25 کا بجٹ محکمہ پی اینڈ ڈی میں بننے کے بجائے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں بنایا گیا جس کا علم چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت کسی بھی سیکرٹری کو نہیں تھا .

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی سے پوچھنا چاہتا ہوں اگر بجٹ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہی بنانا تھا تو محکمہ پی اینڈ ڈی کی کیا ضرورت ہے؟ رکن بلو چستان اسمبلی میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ بلو چستان کے مالی سال2024-25 کا بجٹ عوام دوست نہیں بلکہ پی ایس ڈی پی 47 کا بجٹ ہے، فارم47 کی پی ایس ڈی پی کسی صورت قابل قبول نہیں ہم غلامیت سے پاک بلوچستان کے چاہنے والے ہیں فیڈریشن کا مقصد یہ نہیں کہ صوبوں کو غلام بنائیں۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ سے پہلے بلوچستان کے حالات بہتر نہیں تھے لیکن نواب اسلم رئیسانی کی کاوشوں سے این ایف سی ایوارڈ کے زریعے صوبے میں کچھ بہتری آئی آئین پاکستان میں صاف لکھا ہے کہ ہر 5 سال بعد این ایف سی ایوارڈ کی میٹنگ ہوگی این ایف سی ایوارڈ کی میٹنگ نہ ہونا نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ وفاق کی ناکامی بھی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پہلے رقبے کے لحاظ سے وسائل کی تقسیم کی جاتی تھی جس سے بلوچستان کا حصہ زیادہ بنتا تھا۔سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعد حکمرانوں نے چالاقی سے رقبے کی بجائے آبادی کے لحاظ سے وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بجٹ سے پنجگور کی اسکیمات کاٹی ہیں ۔ موجودہ بجٹ میں میرے حلقے کی ایک اسکیم بھی نہیں رکھی گئی وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اپنے حلقے کیلئے 16 ارب روپے رکھے ہیں جبکہ صوبائی وزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے اپنے حلقے کیلئے 7 ارب روپے کی اسکیمات رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد 15 لاکھ ہے اور بلوچستان میں 60 ہزار اساتذہ میں سے 15 ہزار اساتذہ عمر راہیں جبکہ بلوچستان میں 7 ہزار انجینئر بیروزگار ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی 75 فیصد عوام روٹی سے محروم ہیں ۔ پنجگور کی عوام کا کیا قصور ہے جو انکو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔

ریاست کو عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے التجا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر دھندے کئے جارہے ہیں ، ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ زمینداروں کو قرضہ اور200یونٹ بجلی مفت فراہم کی جائے،بلوچستان کے 10 ہزار طالب علموں کو بین الاقوامی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجا جائے اور بلوچستان کی عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں ، رکن صوبائی اسمبلی اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ جنہیں بلوچستان کے اضلاع کا علم نہیں وہ بجٹ بنا رہے ہیں۔بندوق کی نوک نیچے کرکے ڈائیلاگ کے زریعے بات کی جائے بلوچستان کی مظلوم عوام کے حقوق کے حصول کے لئے جدو جہد جاری رکھیں گے ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے صحافیوں کے لئے زمین الاٹ کی جائے جہاں تمام سہولیات میسر ہوں۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »