//

عمر ایوب نے نئے مالی سال کے بجٹ کو ’ڈڈو بجٹ‘ قرار دے دیا.

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

وش ویب:قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے نئے مالی سال کے بجٹ کو ’ڈڈو بجٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یہ بجٹ درحقیقت پاکستان کے عوام اور مستقبل کے ساتھ معاشی دہشت گردی ہے، اس بجٹ کی کہانی کا آغاز ووٹ کوعزت دو کے بیانیے سے ہوا اور اختتام بوٹ کو عزت دو پر ہوا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کے دوران نئے مالی سال کے بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ اس بجٹ کی کہانی کا آغاز ووٹ کوعزت دو کے بیانیے سے ہوا اور اختتام بوٹ کو عزت دو پر ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مینڈک کو دیسی زبان میں ڈڈو کہتے ہیں اور یہ بجٹ ڈڈو بجٹ سے زیادہ کچھ نہیں ہے، یہ اس عوام کے ساتھ فراڈ ہے، یہ عوام کے ساتھ ڈاکا مارا گیا ہے، یہ بجٹ درحقیقت پاکستان کے عوام اور مستقبل کے ساتھ معاشی دہشت گردی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ اکنامک ہٹ مین کے ذریعے بنایا گیا ہے جو ملک کی بنیادیں ہلا دینا چاہتے ہیں، وہ متعدد بار یہاں آئے اور اپنے پیچھے کھنڈرات چھوڑ کر گئے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ کووڈ میں عمران خان کی دور اندیشی تھی کہ انہوں نے لاک ڈاؤن نہیں کیا، پروسی ملک میں لوگ بھوک سے مرتے رہے، ہمیں خزانہ خالی ملنے کے باوجود منفی سے ابتدا ہوئی، انہوں نے ایک ایک انچ کر کے ملک کو اس کنویں سے نکالا اور جس وقت پاکستان کے خلاف سازش ہوئی، اکنامک ہٹ مین نے سازش کی، جس وقت ہماری حکومت کو ہٹایا گیا اس وقت جی ڈی پی کی گروتھ 6فیصد تھی۔ان کا کہنا تھا کہ لندن پلان کے ذریعے تحریک عدم اعتماد لا کر معیشت کو ڈی ریل کیا گیا اور اس کے بعد نتیجہ یہ ڈڈو بجٹ آیا۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »