//

چمن میں سیکورٹی اداروں اور قبائل کے درمیان جنگ چل رہی ہے، مولانا فضل الرحمن

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

وش ویب: قومی اسمبلی اجلاس سے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چمن بارڈر پر گزشتہ کئی عرصہ سے دھرنا دئیے بیٹھے ہیں،وہ لوگ اپنے حقوق کے لئے وہاں احتجاج کر رہے ہیں.

آج جو خبریں آرہی ہیں وہ افسوسناک ہیں ،گلی کوچوں میں جنگ چل رہی ہے سیکورٹی اداروں نے ان پر حملہ کر دیا،یہ صورتحال صرف چمن بارڈر ہی نہیں دیگر علاقوں میں یہی کچھ چل رہا ،کشیدگی کی وجہ سب علاقوں میں ایک ہی ہے،دونوں ممالک کے درمیان قبائلی ماحول میں پابندیاں وجہ ہیں،مشکلات پیدا ہوں اس طرف جارہا ہوں،مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھاکہ یہ معاملہ صرف اپنی حد تک نہیں ہمسایہ ملک کے ساتھ بھی کشیدہ ہو رہا،پارلیمنٹ اس معاملے کو فوری دیکھے ایک کمیٹی بنائی جائے۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چمن کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے بات کی،چمن کے لوگوں کا صحن افغانستان میں کمرے پاکستان میں آتے ہیں،تقریبا پچیس سے پینتیس ہزار لوگ چمن سے افغانستان جاتے ہیں،ان لوگوں کو واسطہ ہے کاروبار کرتے ہیں،گزشتہ حکومت کے نگران وزیر داخلہ نے ویزوں سے متعلق فیصلہ کیا،بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ ظلم ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »