//

چین کی ترقی ہم سب کیلئے قابل تقلید مثال ہے، وزیراعظم

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

وش ویب: وزیراعظم شہباز شریف نے شینزن میں پاک چائنا بزنس فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی ترقی ہم سب کے لیے قابل تقلید مثال ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے پاس ہر قسم کے وسائل ہیں، ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری نوجوان افرادی قوت ہے، چین کی ترقی ہم سب کے لیے قابل تقلید مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری میں آسانی کے لیے بزنس کونسل قائم کی۔انہوں نے کہ چند ماہ قبل دہشت گردی کا ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا جس میں 5 چینی باشندیں مارے گئے، اس واقعے پر انتہائی دکھ ہے، اس دن پورا پاکستان رنجیدہ تھا، اس دن ہم سوچ رہے کہ صرف گہرا دوست، اچھا پڑوسی نہیں بکلہ چین وہ ملک ہر مشکل وقت میں چاہیے وہ جنگیں ہوں، سیلاب ہوں یا عالمی فورمز اور عالمی معاملات پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، اس کے باوجود ہم چینی شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت نہیں کرسکے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ میری زندگی کا سب سے غمگین دن تھا، اس کے بعد سے ہم نے فول پروف سیکیورٹی سسٹم کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے، میں گارنٹی دیتا ہوں، یقین دہانی کراتا ہوں کہ اپنے بچوں اور اپنی ذات سے زیادہ چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کریں گے، میرا وعدہ ہے کہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ماضی گزر گیا، اگر ہم ماضی میں رہیں تو کچھ حاصل نہیں کر سکتے، لیکن اگر ہم اپنے ماضی سے سیکھیں تو بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں، اسی لیے ہم یہاں موجود ہیں تاکہ باہمی مشاورت کے ذریعے کچھ حاصل کرسکیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ دہائیاں قبل یہ شہر شینزن ایک چھوٹا سا ماہی گیروں کا گاؤں تھا، اس وقت یہ صرف 13 ملین لوگوں کا شہر ہے، اس کا جی ڈی پی 500 ارب ڈالرز کے قریب ہے، کیا یہ اس سنچری کا معجزہ نہیں ہے، کیا یہ دنیا 8واں کا عجوبہ نہیں ہے؟ جب اس شہر کا پاکستان سے موازنہ کرتے ہیں تو ہمارا جی ڈی پی 3 سو 80 ارب ڈالرز کے قریب ہے جب کہ ہماری آبادی تقریبا 25 کروڑ ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ بہت تلخ موازنہ ہے، ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہیے، یہ انتہک محنت اور قیادت کی دور اندیش منصوبہ بندی کے باعث اتنے کم وقت میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور دوسری سب سے بڑی فوجی قوت بن گیا، یہ چھوٹی کامیابی نہیں ہے، چین پاکستان کے دو سال بعد معرض وجود میں آیا، اگر 50 اور 60 کی دہائیوں سے موازنہ کریں تو پاکستان کے معاشی اشاریے نسبتا چین سے بہتر تھے اور آج کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔

قبل ازیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی پاکستان میں بڑا مسئلہ ہے، مہنگائی کی شرح میں کمی آ رہی ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معاشی اشاریے درست سمت میں جارہے ہیں، رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالر سے کم رہے گا۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 38 سے کم ہوکر 11 فیصد تک آگئی ہے، اشیائے خور و نوش کی قیمتیں تیزی سے کم ہو رہی ہے، شرح سود کے معاملے پر ہمیں رواں سال دیکھنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کرنسی چند ماہ میں مستحکم ہوئی ہے، حکومت کی اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے پر توجہ مرکوز ہے۔اس سے قبل چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے پاک چین بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شینزن اسپیڈ ترقی کی منازل طےکرنےکے حوالے سے ایک مثال ہے۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ بزنس فورم مختلف شعبوں میں تعاون، شراکت داری کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئی ٹی، معدنی وسائل سمیت مختلف شعبوں میں بے پناہ مواقع ہیں، ایس آئی ایف سی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔قبل ازیں، وزیراعظم شہباز شریف سے چینی کمپنی ترانشیئن ہولڈنگزکے بانی و چیئرمین ژو ژاؤجیانگ کی شینزن میں ملاقات ہوئی، چینی کمپنی نے پاکستان میں اپنے موبائل بنانے کے یونٹ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ چینی کمپنی کا موبائل فونز کی تیاری، الیکٹرک بائیکس، جدید زراعت،فِن ٹیک میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزرا کو ٹرانشیئن ہولڈنگز کے ساتھ مل کرلائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کر دی، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں و کاروباری شخصیات کو سہولیات کہ فراہمی یقینی بنا رہی ہے۔شہباز شریف نے وزیرِ اعظم کی ٹرانشیئن ہولڈنگز کو پاکستان میں مقامی سطح پر اشیاء تیار کرکے ان کی بیرونِ ملک برآمدات کرنے کی دعوت دی، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس ہر قسم کے وسائل ہیں، ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری نوجوان افرادی قوت ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »