//

گرزشتہ 2 دہائیوں سے بلوچستان میں ہزاروں سیکیورٹی فسورسز اور شہری دہشتگردی کا شکار بنے ہیں، ضیاء لانگو

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

کوئٹہ: کوئٹہ میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء لانگو و ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز احسن گورائیہ نے پریس کانفرنس کی۔

اپنی پریس کانفرنس میں ضیاء لانگو کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں ہزاروں سیکورٹی فورسز و شہری دہشگردی کا شکار بنے ہیں ۔بلوچستان میں دہشتگردی میں ہمسایہ ممالک ملوث ہیں ۔ہمسایہ ممالک نے ہمارے نوجوانوں کو ورغلایا گیا۔ دہشتگردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔وزیر اعلیٰ نے کلیئر کردیا ہے کہ دہشگردی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ بلوچستان میں کوئی آزادی کی جنگ نہیں صرف نوجوانون کو ورغلایا جاتا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشتگردی ہورہی ہے کوئی حقوق کی جنگ نہیں ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے زمینداروں کو حقوق دلائے یہ ہے حقوق کی جنگ تھی۔قوم کو مبارکباد دیتاہوں کہ گوادر حملے میں ملوث دو دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔گرفتار دونوں میں سے ایک کا تعلق گوادر سے ہے۔دہشتگردی کی جنگ میں اپنے فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ضیاء لانگو کا یہ بھی کہنا تھا کہ میر خالد خان مگسی پر حملے کی مذمت کرتاہوں۔ میر خالد خان مگسی پر حملے میں غفلت برتنے پر چار اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔ گوادر میں بارڈ لگانے سے متعلق صرف باتیں ہورہی ہیں۔ گوادر میں بارڈ لگانے سے متعلق باتیں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔کانفرنس میں اعتزاز احسن گورائیہ کا کہنا تھا کہ نوشکی واقعہ کی تحقیقات آخری مراحلے میں داخل ہوگی ہے۔ جلد نوشکی واقعے میں ملوث دہشتگردوں تک پہنچ جائے گے ۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »