//

میرے والد کی گمشدگی کو مذاق سمجھا جاتا ہے، انہیں لاپتہ ہوئے 10برس بیت گئے، صدف امیر

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

وش ویب:لاپتہ امیر بخش بلوچ کی بیٹی صدف امیر نے کہا ہے کہ میرے والد امیر بخش بلوچ کو 4 اگست 2014 کو کلانچ سے لاپتہ کیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔
انہوں نے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مین اسٹریم میڈیا نے لاپتہ افراد کے لواحقین کا مکمل بلیک آؤٹ کیا ہے۔
اس وقت نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ گمشدگیوں کا ہے۔ ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں۔ کسی کا ٹھکانہ اور خیریت کسی کو معلوم نہیں لیکن مین اسٹریم میڈیا، عدلیہ اور پارلیمنٹ والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاتون ایم پی اے کا پرس غائب ہو جائے تو قانون حرکت میں آتا ہے اور ہزاروں لوگوں کی گمشدگی کو مذاق سمجھا جاتا ہے جو کہ کسی المیے سے کم نہیں۔
میں بار بار اپیل کرتی ہوں کہ میرے بابا امیر بخش کو بازیاب کیا جائے اور ہمیں اس ازیت سے نکالیں لیکن کوئی ہماری بات نہیں سنتا۔انہوں نے مزید کہا کہ گمشدگیوں کا مسئلہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور خاص طور پر بلوچ قوم کی بقا کا مسئلہ ہے۔ ہر گھر اور ہر خاندان اس درد کے ساتھ جی رہا ہے۔
ایسا ہی ایک خاندان سائرہ اور سعدیہ کا ہے جن کے خاندان کے تین افراد لاپتہ ہیں۔ راشد، آصف 6 سال سے لاپتہ ہیں جبکہ سلمان ڈیڑھ سال سے لاپتہ ہیں۔
لیکن عدلیہ سمیت کمیشن صرف ٹائم پاس کر رہے ہیں، کوئی ادارہ سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے، اس لئے بلوچ وائس فار جسٹس کی جانب سے 24 مئی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر راشد، آصف اور سلمان کی بازیابی کے لیے مہم چلائی گئی۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »