//

صحافیوں پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کو اسناد سے نوازنا برداشت نہیں، بی یو جے

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

وش ویب:بلوچستان پولیس کے اعلی افسران کے قول وفعل میں تضاد کا معاملہ، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کا وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے حکومت اور پریس کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کے خلاف متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ،بلوچستان یونین آف جرنلسٹس پولیس کے دوہرے معیار کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور ہر اقدام اٹھائے گی.
صحافیوں پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کو معطلی کے بجائے اسناد سے نوازنا ناقابل برداشت ہے، پولیس گردی ناقابل قبول ہے، پولیس کی نااہلی اور دوہرے معیار نے شہر میں امن وامان برباد ہوچکا ہے.
بی یو جے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے حکومت اور پریس کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کے خلاف متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے اعلی افسران نے صحافیوں پر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل کرنے کے بجائے انہیں انعام واکرم سے نوازا ہے۔
بلوچستان پولیس کے اعلی افسران کے قول وفعل میں تضاد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومت اور پریس کے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس پولیس کے دوہرے کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور تمام آپشنز استعمال کرے گی، صحافیوں ہر تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کو معطلی کے بجائے اسناد سے نوازنا ناقابل برداشت ہے، پولیس گردی ناقابل قبول ہے، پولیس کی نااہلی اور دوہرے معیار نے شہر میں امن وامان برباد ہوچکا ہے۔
اگر متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل نہ کیا گیا تو بلوچستان کی صحافی برادری پولیس گردی کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے گی۔ بی یو جے نے واضح کیا ہے کہ صحافیوں پر تشدد میں ملوث ایگل اسکواڈ کے اہلکاروں کے خلاف ائی جی پولیس بلوچستان نے ایس ایس پی آپریشنز محمد جواد طارق اور ایس ایس پی ٹریفک بہرام مندوخیل پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے حقائق جاننے کے بعد رپورٹ پیش کرنی تھی.
کمیٹی کے ممبر ایس ایس پی ٹریفک بہرام مندوخیل نے متعلقہ پولیس اہلکاروں کو اسناد دیکر صحافیوں کو احتجاج پر اکسایا ہے، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس پولیس کے اعلی افسران کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کی شدید مذمت کرتے ہے اور اس کی تلافی تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »