//

مائنز میں بارود کے استعمال پر مکمل پابندی لگائی جائے،مظاہرین

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

کوئٹہ (بلال فیروز): پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام کول مائنز میں حادثات کی روک تھام اور مزدوروں کو تحفظ دینے کیلئے جنرل سلطان محمد خان، مرکزی چیئرمین عبدالستار،سمیت دیگر کی قیادت میں میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے احاطے سے ریلی نکالی گئی اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے۔ اس موقع پر شاہ علی بگٹی، منظور احمد بلوچ، عبدالحلیم خان، سیف اللہ، ساجد کھوکھر، سعید احمد بلانوشی، سعید احمد قلندرانی سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 20 مارچ کو ہرنائی زرد آلو مائنز میں خطرناک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 12 ورکرز شہید جبکہ 6 شدید زخمی ہوئے یہ پہلا اور آخری واقعہ نہیں بلکہ تواتر کے ساتھ ہرنائی، دکی ، چمالنگ، سورنج، مارواڑ، ڈیگاری، مچھ و دیگر علاقوں میں حادثات رونما ہوتے ہیں جس سے ہر سال سینکڑوں مائنز ورکر شہید اور زخمی ہوتے ہیں۔

پاکستان سنٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال 300 کے قریب ورکرز جاں بحق ہوجاتے ہیں۔جبکہ گزشتہ برسوں 2011ءمیں سورینج میں 43ورکر 2018ءمیں مائنز حادثے میں 18ورکرز جاں بحق ہوئے۔ حادثات مائنز مالکان کی غفلت، ٹھیکیداری نظام، مائنز ڈیپارٹمنٹ کی ناقص کارکردگی اور کمپنیوں کا خود کام نہ کرنا اور ٹھیکیداروں کے کام کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ مائنز میں بارود کا استعمال ممنوع ہے لیکن اب اکثر مائنز میں بارود استعمال ہوتا ہے جس سے دھماکے ہوتے ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مائنز میں بارود کے استعمال پر مکمل پابندی لگائی جائے اور بارود استعمال کرنے میں سخت سے سخت سزائیں دی جائے۔ انکا کہنا تھا مائنز میں حادثات کے ذمہ داران کو سزائیں دی جائیں مائنز ورکروں کو تحفظ ، آئی ایل او کنونشن 176 کو تسلیم کیا جائے۔ صحت و سلامتی کے قوانین پر عملدرآمد کیا جائے اور شاہرگ مائنز میں شہید اور زخمی ہونے والے ورکرز کو خصوصی گرانٹ کی فراہمی منظور کی جائے۔

متعلقہ خبریں

اپنا تبصرہ لکھیں

Translate »