World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
ہماری نفسیات اوردورحاضر
مائنڈ سیٹ
آج میں اپنے آپ کو بہتر محسوس کر رہا تھا اور بے چینی سے شیخ صاحب کا انتظار کررہا تھا کہ میں ان کو نوید مسرت سنا دوں کہ میں نے یہ کتابیں پڑھ لی ہیں تھوڑی ہی دیر کے بعد شیخ صاحب اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے اور احترام سے خواتین کو سلام کرتے ہوئے میرے کمرے میں داخل ہوئے میں نے کہاشیخ صاحب آج میں نے یہ کتابیں پڑھ لیں تو انہوںنے بڑی خوشی سے مجھ سے پوچھا کیسی لگیں۔میں نے کہا اچھی لگیں اور ایسی کتابیں تو میں بچپن سے پڑھتا آ رہاہوں کیونکہ میں مسلمان ہوں تو شیخ صاحب نے فرمایا آپ مسلمان ہیں مگر میں مسلم ہوں۔اس کے منہ یہ جملہ جب میرے کانوں نے سنا تومجھے ایسا محسوس ہواجیسے میں کسی پہاڑ سے نیچے گرگیاہوںاورغصہ بھی آیاکہ شیخ صاحب نے مجھ میں اورخود میںکیوں فرق رکھا ہوا ہے۔ میں نے کہا شیخ صاحب یہ آپ نے کیا بات کی آپ میں اورمجھ میں کیا فرق ہے اس وقت میں یہ سوچ رہا تھا کہ جو قرآن شریف کا ترجمہ میں نے ان کتابچوں میں پڑھا اس کا اندازاورترجمہ ذراسامختلف تھا جو ہم بچپن میں اپنے مدرسے سے پڑھتے تھے اور شاید یہی وہ نقطہ تھا جس کی وجہ سے شیخ صاحب مجھے مسلمان اور خود کو مسلم کہہ رہے تھے۔ پھر مزید میںنے ان سے استفسار کیا کہ مسلمان اور مسلم میں کیافرق ہے تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کیماڑی میں ہماری توحیدی مسجد میں آئیں میں نے ان سے پوچھا کہ کیماڑی کے علاوہ کوئی نزدیک میں مسجد ہو تومجھے بتائیں۔
انہوںنے فرمایا کہ ہماری مسجد کیماڑی میںہی ہے، جب میں نے مزید ان سے معلومات لینے کی کوشش کی کہ مسلم اورمسلمان میں کیا فرق ہے وہ مستقل مجھے اپنی مسجد میں آنے کی دعوت پر بضد تھے۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے استادوں نے چاہے وہ اسکول کے ہوں یا مدرسے کے میرے والدین نے مجھے جو پڑھایا اس میں اورشیخ صاحب کی بتائی ہوئی باتوں میں کیوں فرق ہے کہ وہ مسلم اور میں مسلمان۔ اس وقت میں نے شیخ صاحب سے ایک سوال کیا کہ شیخ صاحب آپ کی مسجد میں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں پر پرندوں کے لئے دانے اور پانی کا بندوبست کیا گیا ہو تو انہوں نے کہا بالکل یہ توبہت ثواب کا کام ہے۔ نہ صرف ہماری مسجدمیں اس کا اہتمام ہے بلکہ گھرپر بھی میں نے یہ بندوبست کر رکھاہے اور یہ ثواب کا کام ہے اور صدقہ جاریہ بھی ہے کہ اللہ کے بنائے ہوئے پرندے پانی پیئں اور دانا کھائیں۔میں نے پھر سوال کیا کیا آپ نے کسی چڑیا کو پکڑ کر یہ پوچھا تمہارامسلک کون سا ہے یا کبھی سائبیریا سے آئے ہوئے پرندے سے پوچھا کہ تم کافرستان سے آئے ہو اوریہ دانا کیوں کھا رہے ہو کیا آپ نے کبھی کسی بلبل سے پوچھا کہ تم شیعہ ہو یا سنی اوریہ پانی کیوں پی رہے ہو،یا کسی پرندے سے پوچھا تم اہل حدیث ہویابریلوی یا آپ نے کسی پرندے سے پوچھا کہ تم مسلم ہو یا مسلمان تو شیخ صاحب نے فرمایا ایسا ہم نے کبھی نہیں کیانہ ہی ایسا سوچا، میں نے کہا جب اللہ کی اتنی چھوٹی مخلوق کے لئے آپ کے پاس اتنی تعظیم اور محبت ہے کہ آپ ان میں فرق نہیں رکھتے تو جس کو اللہ نے اشرف المخلوقات کادرجہ دیا ہے اس میں اتنا فرق اور تعصب کیوں رکھتے ہو۔ شیخ صاحب نے کہا آپ نے بڑی گہری بات کی میں نے کبھی ایساسوچا ہی نہیں اس دن کے بعد سے ناںشیخ صاحب میرے پاس آئے ناں اس موضوع پرگفتگو ہوئی اورمیں یہ سوچتارہا اور دعا کرتا رہا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے علم میں اضافہ کرے جو بہترین معاشرے کے لئے ضروری ہے ۔