World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
ہماری نفسیات اوردورحاضر
مائنڈ سیٹ
نفسیات کو سمجھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں اور میری نظر میں سب سے زیادہ روز مرہ کے واقعات سے ہم اپنی نفسیاتی حس کو تیزکرسکتے ہیں یا لوگوں سے مل کر اور ان کی باتیں سن کر اپنے مشاہدے میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس میں ضروری نہیں کہ آپ لوگوں کی باتوں میں آ جائیں مگر غور و فکر ضروری ہوتاہے، ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا۔ آپ کے مشاہدے میں ہے کہ اس وقت دنیا کے لوگ مختلف مذہبوں کے پیروکار ہیں اور پاکستان میں بھی کئی مذہب، کئی فرقے اور کئی مسلکیں موجود ہیں۔ اگر آپ ان تمام مسلکوں کی باتیں سنیں تو آپکو ان کی باتوں پر عمل کرنے میں بڑی دشواری ہوگی کیونکہ ہرایک اپنے مذہبی رہنما کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرتا ہے۔ مثلاً کوئی ہری پگڑی باندھتا ہے، کوئی سفید، کوئی سیاہ تو کوئی نارنجی اورکوئی ناسی وغیرہ۔ مگر یہ سب مسلمان ہونے کی حیثیت سے اللہ اوراس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی تعریف بیان کرتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ مختلف مسلکوں میں بٹ گئے ہیں۔ اگر آپ کو یہ تمام لوگوں کی باتیں صحیح لگیں اور آپ ان تمام لوگوں سے محبت کریں تو آپ کو کئی مسئلے درپیش ہونگے جس میں سے ایک کا تذکرہ کرتاچلوں کہ آپ کس رنگ کی پگڑی باندھیں گے کیونکہ آپ جس رنگ کی پگڑی باندھیں گے تو آپ کو اسی اسکول آف تھاٹ کا ممبر سمجھا جائے گا اور اگر آپ ان تمام رنگوں کو جوڑ کر جس میں سفید، کالا، ہرا، ناسی، نارنجی وغیرہ موجود ہو اورایسی پگڑی بنا لیں اور باندھ کر اپنے گھر سے نکلیں تو لوگ کہیں گے کوئی نیا فرقہ یا مسلک آ گیا ہے۔ یہ ضرور ایک خاص مقصد کے لئے آیا ہے اس کو کسی نے لاﺅنچ کیا ہے اس کا ماضی یہ تھا وغیرہ وغیرہ۔ اور کچھ عرصے کے بعد لوگ آپ کے پیچھے چلنا شروع کر دینگے اور اگر کوئی آپ کی شخصیت کو اپنائے یا نہ اپنائے مگر خاندان ورنہ کم سے کم آپ کا بچہ ایسا ضرور کرے گا اوراس طرح اکثر ہم نے دیکھا ہے محبت اور یقین کی بنیاد پر لوگ مختلف فرقوں میں بٹناشروع ہوجاتے ہیں۔
جس زمانے میں میں نوکری کرتا تھا اس وقت میری حیثیت ایک کمپنی میں کارپوریٹ ہیڈ کی تھی یعنی کمپنی کے تمام امور کا بڑا میں تھا۔ میرے پاس میرا ایک کلیگ اور جونیئر آیا جس کو میں اکثر نماز پڑھنے کے لئے وضو کرتے ہوئے ہمیشہ دیکھا کرتا تھا اور ہمیشہ وہ اپنی پتلون کے پائنچے لپیٹ کر اونچے رکھتا تھا۔ ظہر، عصراور مغرب کی نماز باقاعدگی سے اداکرتا تھا اور باریش بھی تھا۔ شیخ صاحب ہمیشہ مجھ سے ہاتھ ملا کر اپنی کرسی پر بیٹھتے تھے اس کے اس انداز کو میں کبھی بھی منفی نہیں لونگا کیونکہ میں ہمیشہ مثبت سوچنے کا حامی ہوں۔ شیخ صاحب کا مخصوص انداز میں مسکرانا مجھے آج تک یاد ہے ایک دن وہ چند کتابیں لے کر میرے پاس آئے اور اگر ان کتابوں کو میں کتابچے کہوں تو غلط نہ ہوگا اور بڑے احترام کے ساتھ مجھے دیئے اورفرمایا کہ آپ انہیں پڑھ لیں۔ مذہبی کتابچے ہونے کی وجہ سے میرے لئے انتہائی اہمیت اورعزت کے حامل تھے، میں نے انکساری سے وہ لئے اور سرسری نظر ان کے سرورق پر دوڑائی اور محسوس کیا کہ یہ کتابیں توہم ہمیشہ اوربچپن سے پڑھتے آ رہے ہیں اور ان کے عنوان کچھ یوں تھے۔ مثلاً قبر کا عذاب، ٹی وی دیکھنے کا گناہ، جنت کے حسین نظارے، نماز جنت کی کنجی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب شیخ صاحب ہر نماز کے بعد آفس کی خواتین سے خوش اخلاقی سے خیریت دریافت کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے میرے پاس آتے اورپوچھتے احمد صاحب جو کتاب میں نے آپ کو دی ہے آپ نے پڑھ لی ہے شروع میں میں کہتا تھا کہ اچھا میں پڑھ لوںگا لیکن مجھے بڑی شرمندگی ہونے لگی کہ میں نے وعدہ کرلیا تھا مگر پڑھ نہ سکا۔
ایک دن میں نے ان کو جواب دیا کہ میں وعدہ کرتاہوں کہ انشاءاللہ ضرور پڑھوں گا اوریوں یہ شیخ صاحب کی عادت کا حصہ بن گیا کہ وہ ظہر، عصر اورمغرب کی نماز باجماعت نیچے مسجد میں ادا کرتے۔ مسکراتے، خیریت معلوم کرتے میرے کمرے کے شیشے کے دروازے پر آ کر اندر آنے کی اجازت مانگتے اور پوچھتے آپ نے وہ کتابیں پڑھ لی ہیں۔ روز روز کئی مرتبہ ایک سوال باقاعدگی سے سننا بڑا مشکل ہوتا جارہا تھا، مصروفیت کی وجہ اورکتابوں کے ٹائٹل سے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس میں کیا موادموجودہے جس کی وجہ سے پڑھنے میں بیتابی نہیں تھی۔ کچھ ہی دنوں میں میں نے محسوس کیا کہ مجھ پر پریشر بڑھتاجارہاہے اور میں شیخ صاحب کا مجرم بنتا جارہا ہوں اور ان کے کتاب پڑھنے کے سوال سے خوف بھی محسوس کررہا ہوں ۔ ان تمام عوامل کے پیش نظر میں نے سوچا کہ وقت نکال کر ان کتابوں کو پڑھ ہی لوں تو بہتر ہے۔ ساری چند صفحوں کی کتابیں میں نے پڑھ لیں اور وہی ہوا جس کا خدشہ اور تذکرہ میں پہلے کر چکاہوں کہ میرے علم میں ان کتابوں کا مواد بچپن سے موجود تھا اور میں یہ ساری باتیں بچپن سے سنتا آ رہا ہوں بہرحال ان کتابچوں میں قرآن پاک کی آیتوں کے ترجمے تھوڑے سے مختلف لگے۔