World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
کیایہ ریاست کے وارث نہیں!!!
مائنڈ سیٹ
وہ بچہ اس ریاست کے ایک گاﺅں میں غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔وہ چھوٹے چھوٹے ننگے پاﺅں سے کچی مٹی پر گھومتارہتاہے، سردی گرمی سے بچنے کے لئے اس کے پاس کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ ٹوٹی ہوئی بٹنوں والی چھوٹی قمیض پہنے جس کی آستین کلائی تک بھی نہ پہنچتی ہو، شلوار دوسرے رنگ کی ٹخنوں اورگھٹنوں کے درمیان تک ہو اور رات کو مچھر دن کو مکھیاں اس کا خون چوسنے کے انتظار میں ہوں، گندے برتن میں پانی پینا اس کا مقدر ہو ،رات کو ٹھٹھر کر اس امید کے ساتھ سونا کہ صبح اٹھ کر کھیلوں گا، اپنے گھرکی مٹی کی کچی دیواروں اور ٹپکتی چھتوں کے منظر کو دیکھنا ایک معمول ہو اور اسے یہ بھی معلوم نہیں جس جگہ اس کا مسکن ہے وہ کسی سوکھی ندی میں واقع ہے اگر زمیندار اپنی زمینوں کو بچانے کی خاطر بند کو اور مٹی دے کر مضبوط کردے تو پانی اس کے گھر کو بہا کر لے جائیگا۔ پھر اس کا مقدر کچی سڑک کے کنارے چارپائی کے نیچے گزرے گا۔ خیرات کے انتظار میں اسے کافی بھوکا رہنا پڑے گا یہ بے یارو مددگار اللہ کے آسرے اپنی زندگی گزار رہا ہوگا، سرچھپانے کے لئے وہ ان بینروں کے نیچے ہوگا جن بینروں میں یہ جملہ بھی درج ہوگا۔ روٹی، کپڑا اور مکان۔۔۔ جئے جئے۔۔۔۔ جئے.... قدم بڑھاﺅ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔۔ہم وزیراعظم کو اپنے علاقے میں خوش آمدید کہتے ہیں۔۔۔ آرمی نیڈ یو۔ اپنی صدقے کی رقم ہمیں دیں۔ ۔۔۔ہم ہزاروں لوگوں کو مفت کھانا تقسیم کرتے ہیں۔۔۔سچا ویلفیئر ٹرسٹ۔۔۔قربانی کی کھالیں ہمیں دیں۔۔۔یہاں سے مفت علاج اور ادویات حاصل کریں وزارت صحت حکومت سندھ۔ انہی بینروں کو دیکھ کر میری ننھی سی جان خسرے کے درد اور تکلیف سے بے حال غریب ماں کی گودمیں ہچکیاں لے لے کرپیارے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے یہ بتانے کی کوشش کرے کہ میں بہت تکلیف میں ہوں کوئی ہے جو مجھے اس تکلیف سے نکالے اس کی آنکھیں آسمان کی طرف ہوتی ہیں چیخ و پکار کرتا ہے آنکھوں سے آنسو ٹپکتے ہیں ، گیلے آنسوﺅں کی وجہ سے بھی اسکے خسرے کے زخم اس کی تکلیف میں مزیداضافہ کرتے ہیںوہ سوچتا ہوگایارب تونے مجھے کس ریاست میں پیداکیا ہے میرے ماں باپ غریب ہیں یہ کیسے میرا علاج کرواسکتے ہیں اور فلاحی ریاست کا نعرہ بس نعرہ ہی ہے۔
اس کی سانسوں میں وہ خوشبو آ رہی ہوتی ہے جو ہر باپ اپنے بچے کی سانس میں محسوس کررہا ہوتا ہے اس کی آنکھیں حاکموں سے سوال کر رہی ہوتی ہیں کہ میں بھی اپنی ماں کا لال ہوں اورزندہ رہتاتوپورے خاندان کی سیاسی زندگی کاچیئرمین ہوتا۔ جس پر آج تم فخر کرتے ہو اس کے منہ سے وہ گندا زہریلا پانی نکل رہا ہوتاہے جو اس نے سیلاب کے دوران پیا تھا ،اس کے معصوم ہونٹ آخری مرتبہ ہل رہے ہوتے ہی جس طرح تمہارے بچے کے ہونٹ روز ہل رہے ہوتے ہیں ، اس کا خوبصورت چہرہ خسرے کے لال دانوں سے بھراہواہے مگر معصومیت سے کہہ رہا ہوتا ہے اللہ تمہارے بچے کواس عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ خدایا یہ کیوں نہیں سوچتے معصوم کے پورے جسم پر ہزاروں لال دانے جواس معصوم کے لئے آتش فشاں کی مانند ہیں اس کا کیا حال ہوگا اس معصوم نے ہمیں کوئی دکھ نہیں دیا مگر ہم نے اسے بے شمار دکھ دیئے ہیں، اس معصوم کے کفن کا کپڑا بھی بہت چھوٹا ہے، دفن ہونے کے لئے تمہاری ریاست میں چھوٹی سی جگہ لے رہا ہے، دوستوں میرا ساتھ دو کچھ کرو ان بچوں کے لئے ،لوگ اپنا درد خون سے لکھتے ہیں مگر یہ درد اس درد سے بھی بڑا ہے کس سے لکھا جائے
شرم نہیں آتی ہمیں ایک غریب باپ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے لخت جگرکو قبرستان لے جا رہا ہے اور اس کے آنسو کا ہر قطرہ سوال کرتا اور اس ریاست کی مٹی میں گرجاتا کہ میری اولاد اتنی سستی ہو گئی ہے، میرے غم کو کوئی محسوس نہیں کررہا گرچہ خسرے کی وباءدنیا میں ختم ہو چکی ہے اوراس ریاست سے بھی۔ کون سی حکومت میں اس خسرے نے سر اٹھایا اب سینکڑوں باپ کفن خریدنے میں مصروف ہیں اگر اتنے بورڈلگا دیئے جاتے جتنے شہیدوں کے لئے لگے تو خسرے سے لوگ بچ سکتے تھے ابھی تو یہ دوڑ رہا تھا، میری مونچھوں سے کھیل رہا تھا، میری داڑھی پکڑ رہا تھا، ابھی تو میرے گالوں پر بوسہ دے رہا تھا، ابھی تو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مجھے پیار کررہا تھا ،ابھی تو مسکرارہا تھا، ابھی تومجھے بابا کہہ کہہ کر پکار رہا تھا، ابھی تو کلمہ سنارہا تھا، قبر کی مٹی بھی نرم ہورہی تھی کہ آج پھول اس میں سما رہا ہے باپ اپنے ہاتھوں سے اپنے لخت جگر کو اتار رہا ہے اوریہ سوچ رہا ہے کیایہ ریاست کا وارث نہیں ہے۔