World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
سیاست نہیں۔۔ ریاست بچاﺅ
مائنڈ سیٹ
مگر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے سب سے بڑے مسئلے پر بلکہ بین الاقوامی حیثیت کے حامل مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ روٹی، کپڑا اور مکان کی بات کی مگر بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں اور اغواءکی بات نہیں کی۔ یہ بات ضرور فرما ئی کہ کوئی اس دور میں اپنی بیٹیوں کی عظمت محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ دو وقت کی روٹی آج کی عوام کے لئے مشکل ہوگئی ہے مگر حکمران کئی سو مربعوں پر اپنے گھر تعمیر کروا رہے ہیں اور کئی مرتبہ لوگوں سے ہاتھ اٹھوائے اور اقرار کروایا کہ وہ اس نظام کے خلاف ان کا ساتھ دینگے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے وہ تمام باتیں کیں جن سے ان کا وقار بلند ہوا کیونکہ مذہبی عالم ہونے کی وجہ سے اورکسی حد تک بریلوی مسلک سے قریب ہونے کی وجہ سے اللہ کے ولیوں کے طرز عمل کو اپنی تقریر میں شامل کرنا اور پاکستان کے پینسٹھ فیصد آبادی والے صوبے کے مرکز میں اپنا جلسہ کرنا نا ممکنات میں نہ تھا۔ عوام نے اکٹھا ہونا تھا جن لوگوں کو عام طور پر یہ لوگ دہشتگرد کہتے ہیں ان کے لئے نرم گوشہ رکھنا اوران کو اپنا بھائی کہنا اور ان کی کارروائی کو غلط کہنا یقینا تمام سیاستدانوں کی حکمت عملی سے مختلف تھی۔ آخر میں ضروری اعلانا ت کرنا اور اپنی تقریر میں آخری آئٹم کا بار بار ذکر کرنا یقینا عوام کو اپنی طرف راغب کرنا اور مایوس لوگوں کے آخری اعلان کا انتظار کرنا فطری عمل تھا اور یہ وہ طریقے ہیں جو عام طور پر لوگ اپنی چیزیں بیچنے کے لئے کرتے ہیں۔ دو ملین کے جلسے کا ذکر بار بار کرنا اور ان کو سولہ کروڑ عوام کا نمائندہ کہنا یہ توجلسے جلوسوں میں عام بات ہے۔
عام طور پر ایسے جلسوں کو میڈیا کور کرتے وقت کلوز اپ شاٹش لیتا ہے اور لوگوں کے تاثرات بھی جاننے کی کوشش کرتاہے۔ نجانے کون سی حکمت عملی کے تحت یہ کام نہیں کیا گیا۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ عدم تشدد کو اپنی سیاست کا محور کہنے والے ڈاکٹرطاہر القادری کے ذہن میں شاید یہ بات نہیں آئی ہوگی کہ لاکھوں کا مجمع اکٹھا کر کے لوگوں کو کاروباری اوردیگر معاملات سے دور کرنے اور معیشت کو نقصان دینے کے مترادف ہے۔ چودہ جنوری کو اسلام آباد میں ہر قیمت پر پہنچنا ہے، چاہے گھر بیچنا پڑے، بھوکا رہنا پڑے یا تن کے کپڑے بھی بیچنا پڑیں لیکن نظام بدلنا ہے۔ یہ پر امن ہوگا یا نہیں۔ یہ تو اس دن پتہ چلے گا کہ سیاست نہیں ریاست بچاﺅ کا فارمولہ کامیاب ہوا یا نہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی تقریر ابھی ختم ہی ہوئی تھی کہ پیپلز پارٹی سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن نے توپوں کا رخ ڈاکٹر صاحب کی طرف کر دیا۔ کچھ ہو یا نہ ہو مگر ہمارے لاہور کے چیف رپورٹر الطاف محمود صاحب پروفیسر صاحب کی تقریر کو کور کرتے کرتے سردی کے مارے شدید علیل ہوگئے ہیں اور ان جیسے نجانے کتنے علیل ہوئے ہونگے۔