World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
سیاست نہیں۔۔ ریاست بچاﺅ
مائنڈ سیٹ
تیئس دسمبر دو ہزار بارہ کے دن دنیا نے دیکھا ایک بہت بڑا تاریخی جلسہ ہوا اورٹھیک اس سے چند گھنٹے یعنی بائیس دسمبر کو پشاور میں ایک خود کش حملہ ہوا اور اس کا مرکز اس خطے کے بڑے قابل شخصیت اور سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور صاحب تھے۔ ہم جب ٹی وی پر تبصرے سن رہے تھے ان میں یہ بات واضح تھی کہ بشیر بلور شہید ایک بہادر شخص تھے اس میں کوئی شک کی بات نہیں کہ خیبر پختونخواہ میں جتنے بھی حملے ہوئے بلور صاحب پہلے شخص ہوتے تھے جو موقع پر پہنچ کر میڈیا سے بات چیت کرتے اور دیگر انتظامی معاملات کی خود نگرانی کرتے تھے اور اپنے آخری جلسے میں بھی وہ یہی الفاظ دہرا رہے تھے جو ہمیشہ کہتے تھے کہ دہشتگردی سے ہم ڈرتے نہیں ہیںاور اسی نوٹ پر وہ ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے اور شہید ہوگئے۔ مختلف آرائیں آ رہی تھیں کہ اب کیا ہوگا جن لوگوں کو سنا وہ سب تقریباً ایک بات ہی کہہ رہے تھے کہ آج دہشتگرد اپنے تمام اختلافات ایک طرف رکھ کر متفق ہوگئے ہیں کہ موجودہ حکمرانوں اور اس طرز حکومت کو ختم کرنا ہے ۔لوگ ان کی نماز جنازہ کے بارے میں بھی خاصے فکر مند تھے کہ سیکیورٹی سخت ہونی چاہئیے اور ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر طاہر القادری کے جلسے پر بھی گفت و شنید کررہے تھے کہ خدشہ ہے کہ دہشتگردی نہ ہو جائے بہر حال جلسہ پر امن رہا۔
یہ جلسہ دوسرے جلسوں سے مختلف کچھ اس معاملے میں بھی تھا کہ نظم و ضبط ہر ایک کے لئے عیاں تھا اور ڈاکٹر صاحب شیشے کے صندوق میں محفوظ بیٹھ کر تقریر کررہے تھے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا اوران کا ایک منفرد انداز یہ تھا کہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ آئے تھے اور ایسے محسوس ہورہا تھا کہ جیسے کوئی وکیل جج کے سامنے اپنے ٹائم فریم کے اندر دلائل دے رہا ہو۔ پہلی دفعہ یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ جلسے میں مختلف فائلیں کھول کھول کر سامعین کی توجہ اپنی طرف مبدول کرا رہا ہو اور یہ بات بھی میرے لئے نئی تھی کہ فائلوں کو ٹیگ یعنی چٹیں بھی لگی ہوئی تھیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ڈاکٹر صاحب مکمل تیاری سے آئے ہوئے ہیں اور اپنے ہوم ورک اور مشق کی وجہ سے بڑے مجمع میں عوام کی توجہ اپنی طرف مبدول کرنے میں کامیاب رہے۔ مختلف فائلوں کی تلاش میں وہ اپنی تقریر جاری رکھے ہوئے تھے ان کا انداز گفتگو اچھا اورمتاثر کن تھا اور کیوں نہ ہو کیونکہ وہ مستقل تقریریں کرتے رہتے ہیں اور دلیلوں کے ساتھ تقریریں کرنا مذہبی مقرر کا طریقہ ہوتا ہے۔ مذہبی اسکالروں کو ہمیشہ لوگ بڑے غور سے سنتے ہیں اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں ایک وجہ یہ ہے ہر مسلمان بچے کو ماں باپ کی طرف سے گھر سے یہ مذہبی درس ملتا ہے۔ ماں نبیوں کے قصے سناتی ہے اور باپ نماز کے لئے بچے کو اپنے ساتھ مسجد لے جانے کو اچھا عمل سمجھتا ہے۔ رمضان وغیرہ جیسے تہواروں میں اکثر مسلمان قدرتی طور پر مذہب سے قریب ہو جاتے ہیں اور شاید کوئی ایسا بچہ نہ ہو جس کے ایک کان میں خاندان کے انتہائی معتبر شخص کلمہ اور دوسرے میں اذان نہ دی ہو۔ نظام بدلنے والے کو مذہبی سیاست مل جائے تو اس کی اندھے کو کیا چاہئیے دو آنکھوں کی مثال جچتی ہے۔ صبح شام دینی درس دینا اورقرآن و حدیث مبارکہ کی دلیلیں دینا یقینا ہر مسلمان کے لئے قابل تشفی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام دنیا کا جدید ترین عظیم مذہب ہے اور اس کی تعلیمات رسول اللہ نے اللہ کی طرف سے ہمیں دی ہیں دنیا میں اس سے اچھا اور بہترین کچھ نہیں ہوسکتا اور رسول اللہ کے صحابہ کرام نے ان ہی اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے حکومت اور دیگر زندگی کے معاملات چلائے ہیں۔
فی زمانہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تقریر نے آج سے چودہ سو سال قبل کی مثالوں سے اپنی تقریر میں جان تو ڈال دی مگر پاکستان کے بہت سے حلقے اس مخصوص اسکول آف تھاٹ کے حامی نظر نہیں آتے۔ آئین پاکستان کی روح سے الیکشن میں حصہ لینے کی تشریح بھی لوگوں کو بھلی لگی۔ یہ بات بھی ذکر میں آئی کہ یہ کوئی واحد شخص نہیں ہیں جو سالوںکے بعد پاکستان آ کر عوام کی خدمت کرنے کی باتیں کررہے ہیں مگر یہ بات ضرور ہے کہ وہ حضرات کھڑے ہو کر تقریریں کرتے تھے اور ڈاکٹر طاہر القادری بیٹھ کر۔ یقینا یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس دن لاہور میں بڑی سردی تھی مگر لوگوں کا آخر تک جلسے میں بیٹھنا انتہائی محبت کی دلیل ہے اس کے علاوہ پاکستان کے معروف ٹی وی چینل والے اور جن میں ڈاکٹر پروفیسر طاہر القادری کے اشتہارات بھی چلے اچھی کوریج کی۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنی تقریر میں میڈیا کی تعریف کر کے کیا۔ جس کا مفہوم میں یہ سمجھا آج پاکستان کے میڈیا نے پاکستان کو بچانے والوں سے مل کر اس کو بچالیا۔ انگریزی میں کہتے ہیں وِن وِن پوزیشن۔ یعنی سب کو راضی کیا۔ تقریر میں فوج اور عدلیہ کو مجموعی طور پر مثبت کہا اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو اپنی تقریر میں کافی جگہ دی اور ان فیصلوں کی روشنی میں آج کی حکومت کو غیر آئینی قرار دیا یہ بھی فرمایا الیکشن کمیشن میں صرف اس کا سربراہ فخر الدین جی ابراہیم ہی اچھا آدمی ہے اس کے پاس کوئی اچھی ٹیم نہیں ۔ وہ آئین کے مطابق الیکشن کس طرح کرائیں گے اور میرا مطالبہ یہ ہے کہ الیکشن آئین کے مطابق ہوں۔