World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
بلوچستان ،جغرافیہ،تاریخ اور حال۔۔
مائنڈ سیٹ
اس وسیع و عریض اور بے آب و گیاں مگر معدنیات سے مالا مال سرزمین کا جوپہاڑوں دشتوں اورصحراﺅں میں گھری ہوئی ہے اور جس کے پہلو میں نوسو ساٹھ میل لمبا ساحل سمندر ہے یہ وسیع و عریض خطہ اس وقت ایران، افغانستان اور پاکستان کی مملکت میں تقسیم ہے لیکن اس کے باوجود اس کا ہر حصہ جداگانہ طور پر بلوچستانا کہلاتا ہے ایرانی بلوچستان، افغانی بلوچستان اور پاکستانی بلوچستان۔“ تاریخ بلوچستان کے موزوں پر پروفیسر عزیز محمد بگٹی صاحب کی کتاب نہایت ہی مفید اور معلوماتی ہے اگراس کتاب کو یا اس جیسے دیگر مصنفوں کی کتابوں کا مطالعہ کیاجائے تو بہت ہی مفید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔
بجارانی قبیلے میں قبیلے کا مختصر احوال کچھ یوں تحریرہے۔ بجارانی قبیلے کے اوصاف کا تعلق ان بلوچ قبائل سے ہے جو خطہ عرب کے ملک شام کے شمال میں واقع شہرالب کے رہنے والے تھے، دوسری صدی ہجری میں ان میں سے بعض علاقوں نے جنوب میں بحر خضر (کیسپینسی) کی جانب ہجرت کی انہوں نے جنوب مشرقی ایران میں بسیرا کیا بعد ازاں موجودہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے مغرب میں واقع مکران پہنچے جب بلوچ مکران میں داخل ہوئے تو انہوں نے سب سے پہلے جس علاقے میں سکونت اختیار کی اس جگہ کا نام بلیدیا ہے۔ آج بلیدیا مکران ڈویژن کے ضلع تربت کا حصہ ہے، یہ گیارہویں صدی عیسوی کا تذکرہ ہے اس وقت بلوچوں کے چالیس نسلی گروہ یہاں پہنچے تھے۔ ان کی سربراہی سردار میرجلال خان کررہے تھے۔ میر جلال خان کی نسل سے پاکستان میں آباد بلوچوں کی کئی ذیلی شاخیں اور قبائل نے جنم لیا۔ان میں بجارانی، بلیدی، رند، لاشار، کورائی، ہوت ،جتوئی، مری، بگٹی، کھوسہ، لغاری، بزدار اور مگسی قبائل وغیرہ شامل ہیں۔ بلیدیا میں طویل عرصہ بسرکرنے کے بعد یہاں پہنچنے والے بلوچوں کی آل اولادوں میں سے بعض نے آج کے بلوچستان کے مرکزی حصوں کی طرف ہجرت کی ان میں قلات، بولان اور کچی کے علاقے شامل ہیں۔ بعد ازاں عسکری فتوحات ان کے نصیب میں آئی اور میر جلال خان کی اولادوں نے سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی حاکمیت قائم کی۔ کئی صدیوں پہلے بلیدیا سے نکل کر سندھ اوربلوچستان میں پھیلنے والے بلیدی بلوچوں کے آج سات بڑے قبائلی سردارجانے جاتے ہیں
ان میں بجارانی، سندرانی، شیرانی، فتافی، ہاجیجہ اور بلیدی شامل ہیں۔ مذکورہ بالا بیان کردہ قبائل اور تمام قبائلی گروہوں میں سب سے بڑا قبیلہ بجارانی ہے۔ بجارانی قبیلے کے جدامجد میر بجارخان تھے جوسولہویں صدی عیسوی میں عظیم بلوچ سردار میر چاکررند کے سالارتھے اور انہیں پژرند یعنی میر چاکر کا رشتہ دار کہا جاتا تھا۔بجارانی قبیلے کے تقریباً نوے فیصد باشندے بالائی سندھ اوربلوچستان سے ملنے والے ضلع جیکب آباد، کشمور، کندھ کوٹ اور کرم پور میں آبادہیں۔ شکارپور ضلع میں بھی بجارانی بستے ہیں۔ پاکستان کی قومی اور صوبائی سیاست میں بجارانی قبیلے کا ہمیشہ سے اہم کرداررہاہے، بجارانی قبیلے کے سردار گھرانے سے تعلق رکھنے والے میرہزارخان بجارانی آج ملکی سطح پر منجھے ہوئے سیاستدان اور پارلیمنٹیرین تسلیم کئے جاتے ہیں“۔
شالیمار ہوٹل لاہور میں اس وقت صبح کے آٹھ بج رہے ہیں اور میں یہ سوچ رہاہوں کہ اتنی بڑی سرزمین پر بلوچ آباد ہیں مگر آج متفق نہ ہونے کی وجہ سے دوسرو ں سے کئی معاملوں میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ جس طرح پہلے ان کی سربراہی سردار میر جلال خان کر رہے تھے جب یہ الب سے مکران پہنچے مگر آج اس طرح کی سربراہی دیکھنے کو نہیں ملتی اگرہوتی تو آج بلوچستان کا یہ حال نہ ہوتا۔ مشکے کا آپریشن اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں کی خبریں میڈیا پر نہیں آرہیں اورلوگ آج میڈیا سے شدید احتجاج کررہے ہیں۔ کھڑکی سے باہر صرف دھند ہی دھنددکھائی دے رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ ہوٹل بادلوں میں بنایا گیا ہے، سردی بھی بے انتہاہے۔ صبح دس بجے کے قریب منتظمین نے نیچے ناشتے کا بندوبست کیا ہوا تھا جب ناشتے کی میز پر پہنچا تو وہاں پاکستان کے بڑے قابل اور مختلف شہروں سے آئے ہوئے صحافی موجود تھے ان تمام لوگوں نے مجھے دیکھتے ہی بلوچستان اور بلوچوں کے بارے میں گفتگو کرنا شروع کردی۔ جو معلومات میرے پاس تھیں میں اس کی روشنی میں ان سے گفتگو کررہا تھا۔ مجھے حقیقتاً یہ محسوس ہوا کہ بہت سے صحافی بلوچستان کے بارے میں اتنے واقف نہیں ہیں مگروہ بلوچستان اوروہاں کے لوگوں سے بے پناہ ہمدردی رکھتے ہیں۔ اس پوری کانفرنس کے دوران مشکے کا آپریشن زیر بحث رہا جو معلومات اس حوالے سے دستیاب تھیں شامل گفتگورہیں۔ ایک بات اور جومیں نے واضح کی کہ بلوچستان صرف کوئٹہ نہیں ہے اور وہاں کے لوگ میڈیاسے بہت زیادہ توقع رکھتے ہیں۔ آخرمیں میڈیا کمیشن پاکستان نے اپنی رپورٹ پیش کی۔