World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
پاکستان کے باکمال لوگ۔۔لاجواب سروس
مائنڈ سیٹ
میں نے کتاب کی قیمت دریافت کی مگر اچانک دکاندار نے کہا یہ کتاب بیچنے کو ادارے نے منع کیا ہے لہٰذا میں آپ کو یہ کتاب صرف دکھا سکتا ہوں دکان داریہ تمام گفتگو انتہائی محتاط اور خوف کے عالم میں کررہا تھا اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں کسی غیر قانونی چیز کا سودا کررہا ہوں۔ بہر حال اس کتاب میں کچھ بھی ہو مگر اوپر میرے پیارے بلوچستان کا نام درج تھا اس لئے ممکن نہیں کہ پیاسا کنویں سے پیاسا لوٹے۔ میں نے پھر دوہرایا آپ اس کی قیمت بتا دیں اس نے مجھ سے پھر کہا کہ یہ بیچنے کے لئے نہیں ہے میں نے کتاب ہاتھ میں لی اور اس کے ذہن کو تبدیل کرنے کے لئے بلوچی نہیں تو بلوچستان کے بارے میں کوئی اورکتاب ہو تو مجھے دکھاﺅ اس نے مجھے فضل الرحمان قاضی کی لکھی ہوئی کتاب بلوچستان میں اسٹیج ڈراموں کی روایت تھما دی۔ دکاندار دو کتابوں کے خریدار کوخالی ہاتھ نہیں لوٹاسکتا تھا کیونکہ اس کو دکانداری بھی کرنی تھی۔
اس واقع نے میرے ذہن میں تین سوالات پیدا کئے۔ نمبر ایک۔کیا ہم بلوچ کتابوں سے اتنے دور ہوگئے ہیں کہ کئی سو بلوچ مسافر روزانہ کراچی سے سفر کرتے ہیںمگر بلوچی زبان کی کتابوں کا تقاضہ کیوں نہیں کرتے۔ نمبر دو۔ کتابوں میں بلوچستان کے ماضی کا ذکر ہے مستقبل کا کیوں نہیں،کیا بلوچستان قصہ پارینہ بن گیا۔ تیسرا سوال۔ پاکستانی عوام بلوچستان کے معاملے میں اتنی تنگ نظر ہوگئی ہے کہ اب کیا واپسی کا راستہ کھو چکی ہے ۔ان ہی سوالات کو ذہن میں رکھ کر میں انتظار گاہ کی طرف کرسی ڈھونڈ رہا تھا کیونکہ حسب حال جہاز کے اڑنے میں دو گھنٹے کی تاخیر کا اعلان ہو رہا تھا ایک گھنٹے پہلے پہنچنے اور دو گھنٹے یہ یعنی اب میرے پاس تین گھنٹے کا وقت تھا۔ میں کونے میں بنے ایک مقامی کافی شاپ میں گیا اور چائے کا آرڈر دیا اور ساتھ میں سینڈوچ کا بھی۔ مگر بڑی مایوسی ہوئی کہ شیلف خالی تھا اب صرف چائے پر گزارا کرنا تھا، سامنے چھوٹی سی دکان سے مونگ پھلی کا ایک پیکٹ لیا اور چائے کے ساتھ ساتھ مونگ پھلی کھانی شروع کی اوربلوچستان کا مسئلہ کیا ہے پڑھنا شروع کیا۔ اسی دوران ہر آدمی مجھے دیکھ رہا تھا کہ یہ کون شخص ہے جو ماضی کے اوراق پلٹ رہا ہے جس کو بلوچستان کے مسئلے کی پڑی ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے بنگلہ دیش کے بارے میں کوئی کتاب پڑھ رہا ہو اور لوگ سوچ رہے ہونگے کہ بنگلہ دیش کا اب باقی پاکستان رہا ہے جس کو بلوچستان کے مسئلے کی پڑی ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے بنگلہ دیش کے بارے میں کوئی کتاب پڑھ رہا ہو اور لوگ سوچ رہے ہونگے کہ بنگلہ دیش کا اب باقی پاکستان کے ساتھ کیا تعلق۔ ایک بڑی عمر کے پڑھے لکھے سنجیدہ اور سلجھے ہوئے شخص میری سامنے والی کرسی پر آ کر بیٹھ گئے اور آرڈر دیا کہ چائے اور سینڈوچ لے آﺅ جب ان کو جواب ملا کہ سینڈوچ ختم ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا پیٹس یا چھوٹا پیزا دے دو پھر جواب ملا کہ وہ بھی ختم ہوگئے ہیں اس شخص نے بڑے غصے سے کہا کہ اس ملک کو برباد کیا جا رہا ہے یہ جملہ جب میرے کانوں نے سنا اور بلوچستان کے مسئلے پرمیں نواب خیر بخش مری، نواب اکبر خان بگٹی، سردار عطاءاللہ مینگل اور خان قلات کے مختلف واقعات پڑھ رہا تھا تو ایک سوال میرے ذہن میں آیا یہ تمام لوگ بلوچ عوام اور بلوچستان کے بارے میں اچھی اور جامع سوچ رکھتے تھے اور ہیں مگر کبھی ایک حکمت عملی پر متفق نہیں ہوئے۔ نیب کا بننا اور ٹوٹنا مختلف بلوچ نوابوں اور سرداروں کے دور میں آپریشن کا ہونا اور کسی کا اپنے عہدوں سے استعفیٰ نہ دینا وغیرہ وغیرہ۔
سب سن اور پڑھ کر کئی باتیں میرے دماغ میں گھوم رہی تھیں۔ مہنگی چائے پی کر جب میں گیٹ نمبر چودہ پر کرسی پر بیٹھ گیا اور کتاب کو پھر پڑھنا شروع کیا تو اس موقع پر ایک بزرگ میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور مسلسل میرے ساتھ ساتھ میری کتاب بھی پڑھ رہے تھے لوگ بے حال ادھر ادھر بیٹھے اور گھوم پھر رہے تھے۔ چھوٹے بچے زور زور سے رو رہے تھے اور کچھ پاکستانی ماڈرن مائیں اپنے بچوں کو انگریزی میں ڈانٹ رہی تھیں، اس بزرگ شخص سے میری گفتگو اس وقت شروع ہوئی جب سعودیہ سے آئے ہوئے مسافروں جن میں زیادہ تر پٹھان تھے نے شور مچانا شروع کردیا۔ ہم بارہ گھنٹے سے زیادہ فلائٹ کا انتظار کررہے ہیں مگر جو جہاز ہمارے لئے آیا تھا اس کو اسلام آباد کے لئے وقف کر دیا گیا ہمیں کوئی پوچھ نہیں رہا کھانے پینے کا بندوبست نہیں ہے۔ پی آئی اے نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا وغیرہ وغیرہ۔ ایک اور بات میں بتاتا چلوں کہ جومنظر میں ایئرپورٹ پر دیکھ رہا تھا اس شخص نے مجھ سے کہا کہ اس ملک کا اللہ خیر کرے میں تو کئی سال پہلے سے ساﺅتھ افریقہ میں کاروبار کررہا ہوں اس نے مجھے اپنا وزیٹنگ کارڈ بھی دیا۔ ایئر پورٹ پر صفائی کا وہ اہتمام نہیں تھا جیسے پہلے ہوتا تھا ہر طرف مایوسی پھیلی ہوئی تھی اس شخص نے مجھ سے کہا آپ جو کتاب پڑھ رہے ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے یہ تو اب بین الاقوامی مسئلہ بن گیا ہے۔ میں نے اس بزرگ شخص کی زندگی کے بارے میں معلوم کیا اوراس کے تجربہ زندگی کوسمجھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے بتایا کہ میری تین بیٹیاں ہیں ایک پنڈی میں ہے۔ دو کراچی میں بیاہی ہوئی ہیں اور میں کئی سالوں سے ساﺅتھ افریقہ سے ان سے ملنے آتا ہوں میں نے اپنے ایک بیٹے کو امریکہ میں پڑھنے کے لئے بھیجا ہوا ہے جو زندگی میں کماتا ہوں ان بچوں پر خرچ کردیتا ہوں میرا تعلق بھارت اتر پردیش سے ہے اور ہم انیس سو سینتالیس کوپاکستان آئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے رشتہ دار اب بھی انڈیا میں ہیں تو انہوں نے کہا جی ہاں۔۔ پھر میں نے اپنے گزشتہ تجربات کا ذکر کیا کہ میرے پاس ایک دن ایک انتہائی ضعیف عمر کے صاحب میرے ٹھیکے دار کے توسط سے آئے اور میسن یعنی مستری گیری کا کام کر رہے تھے ان دنوں میرے گھرمیں مرمت کا کام چل رہا تھا میں نے اس شخص سے پوچھاکہ آپ پاکستان کب آئے تو اس نے بتایا انیس سو سینتالیس کو۔ میرا دوسرا سوال تھا کہ آپ کا اور آپ کے خاندان کا یہ فیصلہ درست تھا تو انہوں نے جواب دیا نہیں۔ ہم جس نعرے کی وجہ سے پاکستان آئے وہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ اور پاکستان میںاسلامی نظام ہوگا مگر یہاں آج تک وہ پاکستان ہم نے نہیں دیکھا۔ ہم مسلم لیگ کے ساتھ تھے اور ہمارے بہت سے رشتہ دار کانگریس کے ساتھ۔ مگر آج ہم بد حال ہیں اور وہ بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہتر سال کی عمر میں مزدوری کررہا ہوں۔ فلاحی ریاست کا تصور کہاں گیا۔ قائد اعظم کے بتائے ہوئے اصول کہاں گئے اور آج یہاں نوکر شاہی اور اسٹیبلشمنٹ کے راج ہیں اور ہم نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر اس لئے پاکستان حاصل نہیں کیا تھا کہ ذلت کی زندگی گزاریں۔ ایک قوم دوسری قوم کی دشمن بنی ہوئی ہے کوئی مہاجر، کوئی سندھی، کوئی بلوچ تو کوئی پٹھان۔ ہم تو آج تک چونسٹھ سالوں میں ایک قوم ہی نہیں بن سکے۔