World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
تھرڈ ڈگری
مائنڈ سیٹ
مگر ہم نے اس کے برعکس ہی دیکھا ہے، اس ذلت کے بعد ملزم مجرم بن جاتا ہے اور رہزنی کو اپنا پیشہ بنا لیتا ہے اور معاشرے کے لئے ہمیشہ ہمیشہ ناسور بن جاتا ہے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ اس ذلت کا بدلہ معاشرے سے لیتا ہے اور اتنا ہی نہیں بلکہ کبھی اس سے بھی زیادہ دوسروں کے لئے ذلت کا سبب بنتا ہے اوراس طرح کے واقعات بھی ہمارے سامنے موجود ہیں کہ وہ مجرم اور پولیس بعد میں کاروباری پارٹنر اور کبھی آپس میں ان کے درمیان رشتہ داری ہو جاتی ہے۔ جب کسی اچھے، با ضمیر، خاندانی اور معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جانے والے انسان کو ہمارے ٹی وی چینل کے ٹاک شو پر چار ڈبوں میں قید کیا جاتا ہے او ر اسٹوڈیو میں مزید دو یا تین لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے تواس جم غفیر میں کسی کو اپنا مو¿قف بیان کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ مگر چینل اور اینکر کی ریٹنگ ضرور بڑھ جاتی ہے اور پولیس والوں کی طرح اینکر خود کو تمام تر برائیوں اور کمزوریوں سے پاک سمجھ کر ایک با ضمیر شخص
پرانتہائی کرپٹ شخص کو ترجیح دیتا ہے اوراس با ضمیر اچھے کردار کے مالک شخص کو اسکرین کے چار ڈبوں میں سے ایک ڈبے میں ایک گھنٹے کے لئے قید کر کے نظر انداز کر دیتا ہے اس کومزید تھرڈ ڈگری دینے کے لئے صرف فون کال پر رکھتا ہے اور اس کی عجیب اور بھونڈی تصویر اسکرین پردی جاتی ہے اس کے برعکس نور نظر لوگوں کو ڈی ایس این جی سے کور کیاجاتا ہے جسے ہم میڈیا کی زبان میں انتہائی عزت دینا کہتے ہیں اور یوں مسلسل نظر انداز اور غیر علمی سوال پوچھنے کی وجہ سے وہ شخص سیخ پاہو جاتا ہے۔ اور اس با ضمیر شخص کو مختلف درس دیئے جاتے ہیں ان درسوں میں قابل ذکر درس جذبہ حب الوطنی ہوتا ہے ان تمام معاملات کو مشاہدے کی عینک سے دیکھا جائے تو یہ وہی تھرڈ ڈگری ہے جو چور، ڈاکو وغیرہ کو دی جاتی ہے۔ اور وہ بہتر اور باضمیر انسان دل میں یہ ٹھان لیتا ہے کہ آئندہ ٹی وی چینل سے اجتناب کروں گا معاشرہ اورملک بھاڑ میں جائے اور یوں ہمارے ٹی وی اینکر ایک اچھے انسان کی سوچ کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی بلوچستان کی خبروں کو انتہائی چھوٹی خبر سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جس سے لوگوں کے دلوں میں غم و غصہ آتش فشاں کا روپ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ہم سب کو سوچنے کی ضرورت ہے۔