World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
نہیں چلے گی۔۔۔مگر اب چلے گی
مائنڈ سیٹ
ایسے ہی سامنے اسٹیج پر بڑے استاد جلوہ افروز تھے اورمحترم پروفیسر بدر خان تقریر کررہے تھے میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ جب مجھے استادوں کے درمیان جگہ دی جا رہی تھی تو ہال میں موجود لوگوں کی توجہ میری طرف تھی اور استاد پروفیسر بدر خان نے اپنی تقریر میں میرا ذکرکیا اور میری کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ہمارے درمیان احمد اقبال بلوچ صاحب موجود ہیں ان کے ادارے وش نیوزنے بلوچی زبان کی بے پناہ خدمت کی ہے اور آج دنیا بھر میں وش نیوزدیکھا جاتا ہے اوراسی طرح کی اچھی اور حوصلہ افزا باتیں کیں۔اپنے پڑھنے والوں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ یقین کریں میں اپنے اس وقت کے احساسات نہیں لکھ سکتا میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں۔ اس لمحے میں یہ سوچ رہا تھا کہ چند سالوں کی بلوچی زبان کی خدمت کا یہ صلہ ہے کہ میں ان لوگوں کے درمیان موجود ہوں اور ان لوگوں نے جو اپنی ساری زندگی بلوچی زبان کی خدمت میں گزار دی ان کا رتبہ ہمارے معاشرے میں کتنا بلند ہوگا اور ان بڑے لوگوں کے استادوں انتہائی محترم ملا فاضل، سید ظہور شاہ ہاشمی، عطاءشاد، گل خان نصیر، آزاد جمالدینی،مست توکلی اور وہ بلوچی شاعر اور دانشور جن کو میں وغیرہ وغیرہ نہیں لکھ سکتا وہ سب بڑے زانتکاراور عظیم لوگ تھے ، یہ سوال میرے دماغ میں مستقل گھوم رہا تھا۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ادب سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ بڑے دل کے لوگ ہوتے ہیں اور حساس بھی اوران کے ہمیشہ ادبی لوگ ہی وارث ہوتے ہیں کیونکہ ان کی باتوں کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔مگر لوگ سمندر سے موتی ڈھونڈ لاتے ہیں۔ اسٹیج پر بیٹھے بلوچی اکیڈمی کے موجودہ روح رواں استاد عبدالواحد بندیک ، استاد منیر بادینی، پروفیسر صبور، پروفیسر رحیم مہر اور دیگر کو دیکھ کر دل پر جوش اورخوش تھا کہ میری عظیم بلوچی زبان بہت طاقتور ہے اور یہ عالموں کا جم غفیر اس کی دلیل ہے۔ جہاں طالب علم لڑکے اور لڑکیاں جدید دور کی سوچ رکھنے والے بھی کس قدر اپنی ماں کی زبان بلوچی کو سمجھنے اور سیکھنے کے لئے پورا پورا دن گزار رہے ہیںاورعلم کے سمندر سے اپنے ذہن کی آبیاری کے لئے اپنے کوزے میں پانی بھررہے ہیں اوریہ سب دیکھ کر میرا سر فخر سے بلند ہوگیا ۔ اللہ کرے میری آنکھوں میں دید رہے بلوچستان اورجہاں بھی بلوچ آباد ہیں ان کے اسکولوں میں بلوچی زبان پڑھائی جارہی ہو اور میرا ایمان ہے کہ وہ دن آئے گا جب ہر بلوچ بچہ انگریزی پر بلوچی کو ترجیح دے رہا ہوگا۔
چائے کا وقفہ ہوا مجھے بھی لوگوں نے دیوان خاص میں چائے پینے کی دعوت دی جہاں تمام استاد موجود تھے ایسا موقع پہلے کبھی مجھے میسر نہیں آیا جہاں بلوچ دانشور بڑی تعداد میں موجود ہوں میں ہر ایک سے مل رہا تھا اور سب مجھ سے گرم جوشی سے مل رہے تھے۔ اگر میں اپنے اس جملے کو یوں لکھوں تو میرے لئے فخر کی بات ہوگی کہ میں کشکول لئے ہر استاد سے علم دے دو کی سدا بلند کررہا تھا تو بے جانہ ہوگا۔ نجانے کیوں ان جملوں کولکھتے وقت میری آنکھوں میں کئی بار آنسو آ جاتے ہیں۔ شاید میں چھوٹا ہوں اور چھوٹے رو رو کر اپنی باتیں کرتے ہیں اور ہمیشہ بڑوں نے چھوٹوں کے آنسو پوچھے ہیں۔ چائے پی کر میں فوراً ہال میں پہنچ گیا اور اپنی نشست پر بیٹھ گیا اوراستاد محترم بیگ محمد بیگل سے ان کی مزاج پرسی کررہا تھا کہ یکایک ہال کی تما م کرسیاں ایک بار پھر بھر گئیں۔ سیمینار شروع ہوا ۔ کارینہ جہانی اور ڈاکٹر رﺅسی کے پیپرز معززمقررین نے پڑھنا شروع کئے۔
اگلے دروازے سے میرے استاد جی آر ملا داخل ہوئے اور چائے کے وقفے سے پہلے میری نشست کی برابر والی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اب پتہ نہیں چلاکہ کوئی موصوف ان کی کرسی پر بیٹھ گئے یاشاید میں استاد کی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا بہر حال استاد جی آر ملا صاحب جیسے جیسے قریب آرہے تھے میں نے اِدھر اُدھر ان کے لئے کرسی تلاش کرنے کے لئے نظر دوڑائی۔ تمام کرسیوں پر قابل احترام لوگ تشریف فرما تھے اور اسی اثناءمیں استاد بالکل میرے قریب پہنچ گئے اور میں احتراماً استاد کے لئے کھڑا ہوگیا اور کہا استاد آپ یہاں تشریف رکھیں انہوںنے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا تم یہاں بیٹھو اسی اثناءمیں میری کرسی کے پیچھے والی کرسی پر بیٹھے صاحب نظر شخص نے استاد کے لئے اپنی کرسی چھوڑ دی اور ان کوبیٹھنے کی دعوت دی۔ اب میرے لئے ایسا ہونا ناممکن تھا کہ استاد میرے پیچھے بیٹھیں، میں نے ان سے کہا کہ میں پیچھے بیٹھ جاتا ہوں اور آپ آگے تشریف رکھیں اور یوں ہمارے درمیان مکالمے شروع ہوئے اورمیں نے احترام سے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ پربٹھانے کی کوشش کی اور وہ مجھے زور دے رہے تھے کہ تم اگلی کرسی پر بیٹھو اسی دوران نئی بحث نے جنم لیا اور ہال میں بیٹھے تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز ہم بن گئے اور ڈائس پر موجود مقرر نے اپنی تقریر چند لمحوں کے لئے روک دی ، سامعین کی توجہ اپنی طرف مبدول ہونے کا انتظار کیا اور ہماری طرف متوجہ ہوگیا میں نے چند لمحوں میں یہ اندازہ لگا یا کہ میرے اور استاد جی آر ملاکے درمیان گفتگو نے مجمع کو ہماری طرف متوجہ کر دیاہے۔ میں نے استاد جی آر ملا سے کہا واجہ یہ آپ کی جگہ ہے تو انہوںنے فرمایاکہ تم نے مجھ سے زیادہ بلوچی زبان کی خدمت کی ہے تم اس جگہ کے لائق ہو میرے لئے یہ الفاظ گوہر نایاب کی حیثیت رکھتے تھے اور میں نے استاد جی آر ملا کو گلے سے لگا لیا اس وقت میری آنکھیں پر نم تھیں ۔ استاد جی آرملا میری تمام تر کوششوں کے باوجود پچھلی نشست پر بیٹھ گئے یہ تمام معاملہ چند سیکنڈوں کا تھا مگر میرے لئے ساری زندگی کے لئے یہ یاد گار لمحات تھے۔ کھانے کے وقفے کے دوران میں نے استاد جی آر ملا سے کہا آپ نے میری بڑی عزت افزائی کی انہوں نے کہا بیٹا میں تمہیں اور تمہارے پورے خاندان کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ تم جو کام کررہے ہو وہ بہت بڑا ہے اس لئے میں نے تم کو اگلی نشست پر بیٹھنے کو کہا۔ آپ استاد کی سوچ، فکر، بڑے پن اور فراخدلی کو دیکھئے کہ مجھ جیسے کے لئے جس نے ابھی صرف بلوچی زبان کی خدمات کاآغازہی کیا یہ انعام دیا،دیکھئے ہمارے عظیم استاد بلوچی زبان کی خدمت کرنے والوں کےلئے کیسے مثبت سوچتے ہیں۔
ہاں تو میں شروع میں کہہ رہا تھا کہ یہ 1974-75ءکی بات ہے جب میں چھوٹا ہوا کرتا تھا تو میرے بڑے بھائی انور اقبال بلوچ نے بلوچوں کے عظیم شخصیت حمل اورماہ گنج کے نام سے بہادر بلوچ حمل کی بہادری کی داستان کو دنیا میں پہلی مرتبہ پروفیشنل انداز میں فلمایا اور اس فلم میں بلوچی زبان کے عظیم استاد سید ظہور شاہ ہاشمی ، استاد عطاءشاد،گلوکارولی بلوچ اور موسیقار فتح نظرشامل تھے اور ایسے بڑے بلوچی زبان کی قدر کرنے والے لوگوں کا شاہکارفلم حمل ماہ گنج جو سیاست کی نظر ہوگیا۔بلوچی فلم کو سیاست کی نظر اس سوچ اور لوگوں نے کیا جو بلوچوںکواپنا غلام سمجھتے تھے اور آج بھی ایسی سوچ اور ایسے لوگ موجو د ہیں جو عظیم بلوچ قوم کو اپنی طاقت بنا کر سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس وقت نہیں چلے گی والے لوگ آج یہ محسوس کررہے ہیں کہ ہمارا وہ اقدام انتہائی غلط تھا ہم اس وقت سیاست نہ کرتے تو آج بلوچ اور بلوچی زبان بہت آگے ہوتی گو کہ اب حالات بدل چکے ہیں مگر اب بھی اس ذہنیت کے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کی زبان اور بے حیاءفلموں و ٹی وی کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنی زبان اور روایات کو غلام بنا کر رکھتے ہیں۔چاہے کچھ بھی بیچنا پڑے۔
آج ہمیں بابائے بلوچی سید ظہور شاہ ہاشمی کے صبح و شام احسان مند ہونا چاہئیے کہ انہوں نے ہماری بلوچی زبان کو زندہ رکھا ہمیں سید گنج دیا، ہمیں بلوچی لکھنا اور پڑھنا سکھائی ، ہمیں بلوچی رسم و رواج کا درس دیا ۔یہ کیسے ہوسکتا ہے وہ حمل ماہ گنج فلم کے خوبصورت اسکرپٹ اور ڈائیلاگ تحریر کرتے وقت اپنی روایات اور زبان کی پاسداری نہ کریں اور انہوں نے فلم میں وہ بلوچی روشناس کرائی جو بلوچی زبان کی اصل روح ہے۔ اور اپنی خوبصورت آواز میں شروع کے مکالمے بھی بولے اور انور اقبال بلوچ بلوچوں کے بڑے اور عظیم ہیرو ہیں جو آج تک بلوچوں کے لئے باعث ندامدفلم اور ٹی وی انڈسٹری میں نہیں بنے وہ بلوچی فلم حمل و ماہ گنج کے ہیرو تھے۔ چلے گی۔۔۔نہیں چلے گی کہ چکر میں ہم نے اپنی بلوچی زبان کو بہت نقصان پہنچایا۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی روایات کو لے کر نہیں چلتا وہ نقصان میں رہتا ہے۔ آج ہمارے بچے اردو، انگریزی میں فلمیں اور ٹی وی دیکھتے ہیں اور ان کودوسروں کی زبان سمجھ آتی ہے مگر اپنی بلوچی زبان سمجھ میں نہیں آتی۔ ذرا سوچئے ان 35-40 سالوں میں ہم نے خود کو کتنا نقصان پہنچایا اور آج وقت نے ثابت کردیا کہ علمائے کرام اسلام کی تبلیغ بھی اسی میڈیا کے ذریعے کرتے ہیں۔ نہیں چلے گی۔۔۔مگر اب چلے گی