World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
مسخ شدہ لاش اور ماں
مائنڈ سیٹ
ہاں بالکل درست بات ہے۔۔ ارے جناب بلوچ صاحب کا بیٹا کتنے دنوں سے لاپتہ تھا۔۔ میرے خیال سے مہینہ ڈیڑھ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔۔ بڑے تکلیف کے دن گزرے ہونگے، ماں باپ اور بہن بھائیوں کے لئے۔۔ یہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ لاش مل گئی ہے ورنہ ساری زندگی عذاب میں گزر جاتی۔۔ آپ دونوں صحیح کہہ رہے ہیں ہمارے لئے وہ دن بڑی عجیب کیفیت میں گزررہے تھے میں تو چلو مرد ہوں باہر نکل جاتا تھا لوگوں سے اپنے بیٹے کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہتا تھا اور شروع شروع میں ساری ساری رات ہم تھانوں، اسپتالوں اورمردہ خانوں کے چکر لگا لگا کر گزارتے تھے، میرے دوسرے بچوں نے اسکول اور کالج جانا چھوڑ دیا تھا، گھراور خاندان میں غم و غصے کا عالم تھا، نہ کسی کو کھانے پینے کی فکر نہ کسی کا زندگی کے دوسرے معاملات میں دل لگتا تھا۔ ایسا ماحول جیسے جسم موجود ہو اور اس میں روح نہ ہو۔ میری بیوی اور شہید کی ماں کی کیفیت بیان کرنا بڑا مشکل ہے، مجھے یاد نہیں جب سے میرا بیٹا لاپتہ ہوا ہے اس نے جاءنماز چھوڑی ہو اس کو میں نے ایسے طویل سجدے میں دیکھا اس کی مثال شاید ولیوں کے پاس ہی ہو، کوئی شاید سوچ بھی نہیں سکتا ساری ساری رات اللہ کی بارگاہ میں رو روکر گزارنا اس کا معمول بن چکا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس کے آنسو بہہ بہہ کر کہیں آنکھیں سوکھ نہ جائیں۔ قرآن پاک کی اونچی آواز میں تلاوت کرتی توایسا سماں بندھ جاتا تھا کہ جیسے عرش پر موجود ہستیاں اس کی آواز سن رہی ہوں، جو کرب اس کے چہرے پر میں نے دیکھا اس کرب کو دیکھ کر دنیا کی تمام مائیں آہ و فریاد کر رہی ہوں گی کہ اس کے لخت جگر کو لوٹا دو۔ اس میں اس ظالم کی ماں بھی شامل ہوگی جس نے اس کے لخت جگر کو قتل کیا ہوگاکیونکہ ماں ماں ہوتی ہے۔ شہید کے جسم پر تشدد کے نشانات اور گہرے زخم روز محشر اس ماں سے سوال کرینگے کہ تم نے کیسے انسان کو جنم دیا جس نے قتل کرتے وقت اس کی ماں کی فریاد تک نہ سنی اور بھول گیا جب وہ بھی کبھی تکلیف میں ہو تو اس کی ماں بھی کتنی تڑپتی ہوگی۔۔ حوصلہ رکھئے بلوچ صاحب اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔۔ آہ ہ ۔۔ میری بیوی کا یہ حال ہو گیا تھا کہ وہ اخبار سے ڈرتی تھی کہ کسی اخبار میں اس کے بچے کے قتل کی خبر نہ آ جائے اور وہ ٹی وی نہیں دیکھتی کہ کہیں اس کے لخت جگر کی شہادت کا ٹکرنہ چل رہا ہو، اس کو اندازہ تھا کہ روز کسی نہ کسی ماں کی کوک اجڑ رہی ہے ،روز کسی ماں کے لئے قیامت برپا ہے۔۔ میری طرح کتنی مائیں تڑپ رہی ہوں گی، وہ دردو غم کے حال میں مبتلا تھی کہ کہیں اس کا لخت جگر اس سے جدا نہ ہو۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مسلسل بڑی تعداد میں مسخ شدہ لاشیں ملنے کی خبریں ٹی وی پر مسلسل دکھائی جارہی تھیں۔ تربت سے چار مسخ شدہ لاشیں، حب سے دو، قلات سے پانچ، کوئٹہ سے تین۔۔ ان ہی خبروں کی وجہ سے میرے پیارے بیٹے کی ماں اس خوف میں ہوتی تھی کہ کہیں میرے بیٹے کی خبر اور لاش ٹی وی پر رپورٹ نہ ہو۔ اس کرب میں اگر کوئی ہو تو وہ خود اندازہ لگا سکتا ہے کیونکہ آپ بھی نوجوان بیٹے کے باپ ہیں
آپ سب لوگوں کی حوصلہ ا فزائی کی میں قدر کرتاہوں اور دعا کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کواس عمر میں نوجوان بیٹے کا دکھ نہ ملے۔ آپ لوگوں کی بیگمات میرے گھر میں شہید کی ماں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں اس کو تسلی دے رہی ہیں مگر خودبھی شدید خوف میں ہیں کہ ان کا بھی نوجوان بیٹا ہے۔۔ آپ ذرا سوچیں وہ کس قسم کے لوگ ہونگے جنہوں نے میرے بیٹے کو شہید کردیا آخر میرے بیٹے نے کیا جرم کیا، کس قانون کے تحت اسے قتل کیا گیا اور کس نے ان قاتلوں کواجازت دی ہے۔ اگر میرے بیٹے نے کوئی جرم کیا تھا تو اس کو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جاتا۔۔ نہیں جناب آپ کیا بات کررہے ہیں۔۔ جرم کیسا جرم۔۔ ہمارے سامنے کا بچہ ہے اس کے خلاف آج تک محلے میں کسی نے کوئی شکایت نہیں کی ۔۔ اگر میرے بیٹے کے خلاف کوئی شکایت کرتا تو میں ہمیشہ اس سے سختی سے پیش آتا۔ بلوچ صاحب آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔۔ پورا علاقہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ اچھا انسان تھا مگر موت کے سوداگروں نے کچھ نہیں دیکھا اور اسے اذیت دے دے کر مار دیا یہ کیسے انسان ہیں۔۔ بلوچ صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں دنیا کے مہذب معاشروں میں جنگی قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں مگر یہاں اپنوں کے ساتھ یہ ظلم۔۔ اس ملک میں اپنا حق مانگنا بھی جرم ہے۔ اس شخص اور سوچ کے مالک جس نے میرے بیٹے کو شہید کیا مجھے یقین ہے کہ شہید کی ماں ہر لمحے اللہ کے دربار میں ہاتھ پھیلائے اس ظالم کے لئے شدید عذاب ، ذلت اور رسوائی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کا مقدر بن جانے کی دعا مانگ رہی ہوگی۔چند دنوں بعد اس گھر میں شہید کی شادی ہونے والی تھی مگر آج ہم اس کے جنازے پر بیٹھے ہیں۔ آئیے ہاٹھ اٹھا کر شہید کے حق میں دعا کریں۔