World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
بلوچستان کی بلی
مائنڈ سیٹ
ارے وہ دیکھیں دادی ہمارے گھر کی پیاری بلی کتنی کمزور ہوگئی ہے ۔ بیٹا جب یہ گھرپر تھی توآپ کواس پر غصہ آتا تھا اورآپ اس کومارتے اور بھگاتے تھے اور جب یہ مجبور ہو کر مارکیٹ آ گئی ہے تو تم نے اس کوخوب پہچان لیا کہ یہ ہمارے گھر کی بلی ہے تمہارا اوراس بلی کا رشتہ بڑا عجیب ہے اب تمہیں اس پرپیار اور اپنایت محسوس ہو رہی ہے، جب بلی گھر پر تھی تو تم لوگ اس کومارنے کی کوشش کرتے تھے اور جب یہ دوسرے محلے کی مارکیٹ میں آ گئی تو تم اسے اپنے گھر کی بلی کہہ رہے ہو، تمہارے بھی احساسات عجیب اور مطلبی ہیں۔ بیٹا یاد رکھنا کسی بھی جاندار کو اگر آپ نے کارنر کیا اور اس کے پاس اپنے دفاع کے لئے کوئی حربہ نہ رہا تو وہ تم پر حملہ کرسکتی ہے۔
دادی ہم بلیوں سے کس طرح دوستی کریں جبکہ ہمارے اور اس کے درمیان دوری قائم ہو گئی ہے ہم اس کو دیکھتے ہیں توغصہ آتا ہے اوروہ ہمیں دیکھتی ہے تو اس کو بھی غصہ آتا ہے ،بیٹا یہ نفسیاتی معاملات ہیں۔ نفسیاتی معاملات غور و فکر کے بعد ہی سمجھ میں آتے ہیںاور وجوہات کو سمجھے بغیر ہم مسائل حل نہیں کر سکتے۔ہوتا یہ ہے کہ آپس میں جب اعتبارختم ہوجائے تو پھر دوستیاں بھی ختم ہوجاتی ہیں اور اس اعتبار کوقائم کرنے کے لئے بڑے دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ گھرکی بلی کے لئے دودھ کا ایک پیالہ رکھ دیں اورآپ کی نیت بلی سے دوستی کرنا ہو اوریہ دودھ بہت ہی خلوص اور محبت کے ساتھ آپ اس کے لئے رکھیں مگر بلی جب اس دودھ کے پیالے کودیکھتی ہوگی تو وہ یہ سوچتی ہوگی کہ اس دودھ کے اندر زہر ہے اوریہ ایک سازش کے تحت شاید میرے لئے رکھا گیا ہے کیونکہ مجھے آج تک اس گھرمیں یہ محبت نصیب ہی نہیں ہوئی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ دودھ خالصتاً میرے لئے رکھا گیاہو اور یوں بلی خالی پیٹ ہونے کی وجہ سے حسرت بھری نگاہوں سے دودھ کے پیالے کودیکھ رہی ہوتی ہے اور آپ کسی کونے سے یہ منظر دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ کرے یہ بلی دودھ پی لے اوراس کے دل میں وہ محبت پیدا ہوجائے جو میں اس کو دینا چاہتی ہوں۔ مستقل انتظار کی وجہ سے آپ کو کوفت بھی ہورہی ہوگی اور بلی دودھ کی خوشبو اور بھوک کی وجہ سے دھیمے دھیمے دودھ کے برتن کی طرف آ رہی ہوگی۔تمام تر شک و شبہات کے باوجوداور دوسری طرف آپ کے دل میں بھی خوشی کی لہر اٹھ رہی ہوگی ایسے میں بے ساختہ خوشی سے آپ کی آواز نکل جاتی ہے اور بلی وہاں سے بھاگ جاتی ہے۔دوسرے دن آپ پھر یہ مشق کرتے ہیں آج بلی کل کے مقابلے میںقدرے بہتر اور مثبت سوچ رہی ہوتی ہے کہ یہ دودھ کسی اور کے لئے نہیں بلکہ میرے لئے ہی رکھا گیا ہے،بلی تھوڑے سے تیز قدموں سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے دودھ کے برتن کی طرف آتی ہے اورجیسے ہی اپنی زبان کو دودھ کے پیالے پر پینے کے لئے مارتی ہے تو آپ بے ساختہ خوشی کے مارے شور کرتے ہیں اور بلی وہاں سے پھر بھاگ جاتی ہے آپ کو بہت غصہ آتا ہے، اب آپ سوچیں گے کہ چلو کل دیکھتے ہیں۔
تیسرے دن آپ غصے کی حالت میں دودھ کا پیالہ رکھتے ہیں کہ کم بخت آج دودھ پیئے گی کہ نہیں پیئے گی دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے اور ساتھ میں بلی کو مارنے کے لئے لاٹھی بھی رکھتے ہیں کہ اگراس نے دودھ نہیں پیا تواس کو میں سیدھاکر دوںگی،اس کے برعکس بلی آج بہت ہی اعتماد کے ساتھ اس بات پر یقین کرتے ہوئے کہ یہ دودھ آپ نے مجھ سے اظہارمحبت ، خلوص، انسانیت کی بنیاد پر رکھا ہواہے، یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بلی کا اعتماد بڑھ جاتا ہے اور آپ کا غصہ۔ اور جب بلی دودھ کی طرف آ رہی ہوتی ہے تو آپ یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ کتنی بیکاربلی ہے، بہت ہی مغرور ہے ،اس کو بہت ہی گھمنڈ ہے ،اس کو ذرا سا بھی احساس نہیں تھا کہ میں مستقل اس کے لئے دودھ رکھ رہی ہوں اوراس سے دوستی کرنا چاہتی ہوں یہ نخرے کررہی ہے یہ اللہ کی رحمت کو نہیں سمجھتی۔دودھ جورزق حلال ہے اس کو پی نہیں رہی اور یوںبلی اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے دودھ پینے کی کوشش کرتی ہے،گھر میں شور کی وجہ سے وہ بھاگ جاتی ہے اور آپ لاٹھی لے کر اس کو مارنے کے لئے پیچھے بھاگتے ہیں کہ اس کے بہت نخرے ہیں ،اور سوچتے ہیںکہ اچھا کیا کہ میں نے اس سے دوستی نہیں کی، اس میں انااور غرور بہت ہے۔ دوسری طرف بلی تیز تیز سانسوں اور دھڑکنوں کے ساتھ یہ سوچ رہی ہوتی ہے کہ اچھا کیا کہ میں نے دودھ نہیں پیا میرے پہلے دن کا شک صحیح تھا کہ یہ مجھ سے محبت نہیں کرتے، یہ دودھ پلانے کا مقصد مجھے پکڑ نااور مارناہے اور یوں آپ کی بے صبری اور بلی کا آپ پر اعتبارنہ کرناجس کی وجہ سے دوستی کی بنیاد قائم نہیں ہوئی۔بیٹاایک بات یاد رکھناجب کسی سے دوستی کے لئے ہاتھ بڑھاﺅتواس دوستی میں خلوص اور اعتماد کاہونا بہت ضروری ہے۔ اللہ کرے کہ ہمارے دل ایسے ہوجائیں کہ ہم کسی جاندار پر ایسا ظلم نہ کریں کہ جس کا جواب ہمیں دونوں جہان میں دینا پڑے۔ مگر دادی یہاں پر تو انسان انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کررہے ہیں۔ قتل و غارت گری اتنی عام ہو چکی ہے کہ چند لمحوں میں کئی سو لوگوں کو مار دیا جاتا ہے، یہ مارنے والے محسن انسانیت کے نقش قدم پر کیوں نہیں چلتے۔