World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
ہماری نفسیات اوردورحاضر
مائنڈ سیٹ

نفسیات جسے سائیکولوجی کہتے ہیں انسان کی زندگی میں اس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے سائیکولوجی کو سمجھے بغیر آپ وہ تمام ہدف حاصل نہیں کرسکتے جس کی آپ تلاش میں ہوتے ہیں۔ اگر اسے سمجھ کر کام کیاجائے تومیں سمجھتاہوں زندگی آسان ہوجاتی ہے۔ علم سائیکولوجی کے طالب علم کی حیثیت سے میں کچھ باتیں اورواقعات آپ لوگوں سے آگے چل کر شیئر کروں گا۔ عام طورپر اکثر لوگ بہت مختصر سوچتے ہیں اور اگر آپ اپنے مشاہدے کا دائرہ بڑھا دیں تو بہت سی باتیں آپ کے سمجھ میں آجائیں گی۔ مثال کے طورپر آپ اگر کسی بھی علاقے کا اوپر سے فضائی نظارہ کریں تو آپ چند لمحے میں پورے علاقے کی صورتحال کا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کون سی جگہ کس جگہ سے کتنے فاصلے پر ہے۔ زمین کی نوعیت کا آپ کو اندازہ بہتر انداز میں ہو جائے گا یہ شہر ی علاقہ ہے یادیہات، یہاں سبزہ ہے یا دشت و صحر، یہاں پانی ہے یا نہیں۔
ہم کسی ہوٹل کے کونے میں بیٹھ کر پورے علاقے کا جائزہ نہیں لے سکتے۔ ایک نظر میں ہمیں تمام چیزیں سمجھنی ہوں تو ہمیں اپنا دائرہ نظر وسیع کرنا ہوگا اور اگر آپ کے مشاہدے کا دائرہ بڑا ہو تو بہت سی باتیں آپ کو خود بخود سمجھ میں آنی شروع ہوجائیںگی اور ایسے سوچنے اور مشاہدے کا مشق کرتے رہیں اوراپنے ارد گرد کے واقعات پر تبصرہ کریں تو لوگ آپ کو بہتر سمجھنا شروع کردینگے۔ اگر آپ ایک انسان، جگہ، چیز وغیرہ کی تعریف کرینگے تولوگ اس جگہ جانے کی کوشش کرینگے اس شخص سے ملنے کی، اس چیز کو اپنانے کی جستجو میں لگ جائیں گے۔ ایسا ہی اگر آپ اس کے برعکس کسی شخص کی برائی، اس جگہ کی برائی یا ان چیزوں کی برائی کریں گے تو عمومی طور پر لوگ ایسا ہی برا تاثر لیں گے۔
کسی زمانے میں جب ذرائع ابلاغ نہیں ہوتی تھی اخبار، ٹی وی، انٹرنیٹ وغیرہ توعام تاثریہ ہے کہ اس زمانے میں ذرائع ابلاغ کا تصور نہیں تھا مگر ایسا نہیں ہے انسان اور دیگر جاندار خبر رسانی کے علم سے بہت اچھی طرح ہمیشہ سے واقف تھے۔ جیسے لوگ دوسرے دور دراز علاقوں سے جب اپنے علاقے میں پہنچتے تو لوگ ان سے حال احوال پوچھتے تھے۔ یعنی وہ تمام خبریں اس بیٹھک میں موجود لوگوں کو سنائی جاتی تھیں اور لوگ اس کو سمجھتے اور یقینا سوال اور تبصرے بھی کرتے ہونگے اور یوں وہ خبران لوگوں کے توسط سے دوسرے دیوان ،محفل میں بیٹھے ہوئے لوگوں تک پہنچ جاتی تھی اورایسا ہی جانوروں کا سلسلہ ہے۔ آپ نے غور کیا ہوگاکہ کسی بھی جانور یا پرندے پر خطرے کے بادل چھاتے ہیںتووہ شور کر کے دوسرے ہم جنسوں کو اس کی اطلاع دیتے ہےں اور دوسرے جانور بھی چیخ چیخ کر اس خبر کو اور آگے پھیلا دیتے ہیں تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ذرائع ابلاغ شروع سے جاندار کی نفسیات میں موجودہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی آتی گئی اور آج ہم اس دور کی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کررہے ہیں اور اس ٹیکنالوجی نے بڑی ترقی حاصل کرلی ہے۔