World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
کیایہ ریاست کے وارث نہیں!!!
مائنڈ سیٹ

ہمارے کھپرو کے نمائندے حمید رند مسلسل یہ خبریں بھیج رہے تھے کہ یہاں بچے خسرہ جسے بلوچی میں سورک کہتے ہیں سے موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اوربعد میں ہمارے دیگرنمائندے جس میں جیکب آباد سے بشیر، سانگھڑ سے سرور بلوچ ، باہوکھوسہ سے نیاز بنگلزئی ، کندھ کوٹ سے عثمان ،سکھر سے قربان بلوچ ،میرپورخاص سے اسلم بلوچ ،میہڑ سے سدھیر بلوچ اور دیگر شہروں سے یہ خبریں آنی شروع ہوئیں کہ یہ بیماری ان علاقوں میں بھی پھیلتی جارہی ہے شروع میں جب یہ خبریں آ رہی تھیں تو میں سمجھا کہ شاید کوئی ایک عاد بچہ غربت، کمزوری اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے انتقال کرگیا ہے،یقینا دکھ اور افسوس بہت ہوا مگر ہمارے ہاںروزانہ دس سے بیس لوگوں کا مرنا معمول اورعام سی بات ہوگئی ہے۔ مگر بچوں کے موت کے شکار ہونے والی خبر اس وقت انتہائی سنگین صورت اختیار کر گئی جب روزانہ کئی بچوں کے انتقال کی خبریں مسلسل آنی شروع ہوئیں اور ان کی تعداد بڑھتے بڑھتے ڈیڑھ سو سے دوسو کے قریب ہوگئی جو انتہائی تشویشناک بات ہے اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ستر بچے ایک ہی دن میں اس موذی بیماری کا شکار ہوئے۔
ہمارے ملک میں بڑا ہی عجیب نظام ہے جب ہم حکمرانوں کی طرف دیکھتے ہیں تو ان میں سے کسی ایک میںبھی کوئی خاص امید نظر نہیں آتی۔ بہر حال حکمران آئین کی روح سے ان تمام حالات کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ مگر اسکول کے چھوٹے بچوں کی طرح ایک دوسرے پر الزامات لگا کر خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہیںاور اگر ان کے پروٹوکول میں ایک پولیس والا بھی کم ہو تو ان کا استحقاق مجروح ہوجاتا ہے اگر ایسا ہی رہا تو مجھے یقین ہے کہ ان بچوں کے والدین اور ہمدرد اور وہ لوگ جو انسانیت کے جذبے سے اب تک سرشار ہیں بہت جلد روڈوں پر نکل آئیں گے کم سے کم اس بات کی نشاندہی اور اس اہم مسئلے پر توجہ کا سبب بنے گی۔ دل تو چاہتا ہے حکومت اور ذمہ داروں کے لئے بہت سخت جملے لکھوں اپنی ذات کا ڈر نہیں مگر وہ اس انسانی مسئلے کو کہیں سیاسی مسئلہ نہ بنا دیں۔
اب میں اپنے دل کا وہ حال لکھنے جا رہا ہوں جومجھے یقین ہے ان تمام صاحب اولاد لوگوں کے لئے انتہائی درد اور غم کا سبب ہوگا۔ آپ ذرا سوچیں ایک معصوم چندسال کا بچہ جس نے ابھی صرف اپنی ماں کی بات کو سمجھنا شروع کیا ہو ایسی تکلیف میں مبتلاہو جس درد سے وہ نہ آشنا ہوں اور بھی ایسے لاکھوں بچے ہونگے کیونکہ یہ بچپن میں ہونیوالی بیماری ہے اکثر لوگ اسے بھول جاتے ہیں آ پ کے جسم پر ایک دانہ ہو اوراس میں پانی بھر جائے اور یہ پانی پیپ کی شکل اختیارکرلے اور ذراسا ہاتھ اس دانے پر لگے تو آ پ خود اس تکلیف کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ جلن اور درد سے انسان چیخ اٹھتا ہے ایسے دانے آپ کے پورے جسم پر ہوں اور آپ ہل بھی نہ سکیں اور ململ کے کپڑے کے لگنے کو بھی برداشت نہ کرسکیں تو آپ کا کیا حال ہوگا۔ ایک چار پانچ سال کا بچہ اگر اس حال میںمبتلا ہو تو اس کے لئے کتنا تکلیف دہ ہوگا