World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
سیاست نہیں۔۔ ریاست بچاﺅ
مائنڈ سیٹ

لیجئے جناب دو دھمکیوں کے بعد جلسہ ختم ہوا۔جو قومی ترانے سے شروع ہوا تھا۔ پچھلے تقریباً ایک ماہ سے ہم دیواروں، بینروں اور اشتہاراتی بل بورڈز پر ایک نعرہ تحریر ہوا دیکھ رہے تھے جن پر ڈاکٹر طاہر القادری کی مختلف زاویوںسے کھینچی ہوئی تصویروں کے ساتھ سیاست نہیں ریاست بچاﺅ کا نعرہ درج تھا دکھائی دے رہا تھا۔ ان دنوں میں پاکستان کے مختلف شہروں کے دورے پر تھا جن میں کراچی، اسلام آباد، لاہور سر فہرست ہیں۔ میڈیا سے تعلق کی وجہ سے مجھے کافی چیزیں سمجھ میں آتی ہیں عموماً میڈیا اور ایڈورٹائزر کے درمیان یہ جملے ہمیں اور آپ کو سننے کو ملتے ہیں کہ اسکرپٹ کس کا ہے، ایونٹ مینیجر کون ہے، فنڈنگ کس نے کی ہے اورموجودہ حالات کی وجہ سے ایک اور فکرہ ضرور سننے کو ملتا ہے سیکیورٹی دیکھ لو۔
میں اس کیمپئن کو بڑا کیمپئن سمجھتا ہوں اوراپنے پڑھنے والوں کو بتاتا چلوں کہ ایسی کیمپئن اکثر ملٹی نیشنل کمپیناں کرتی ہیں کہ اپنے ماڈل کے مختلف فوٹو سیشن کرواتی ہیں اور بہت ہی اچھے گرافکس ڈیزائنر سے ان تصاویر کے بیک ڈراپ کو تبدیل کرتی ہیں یہ آپ بھی جانتے ہوں گے کہ عام طور پر تصویروں میں وہ کوالٹی نہیں ہوتی جو فوٹو سیشن فوٹو گرافر کرتا ہے اور یہ بھی آپ لوگوں کو معلوم ہو گا کہ فوٹو گرافر اچھی تصویر کھنچوانے کے لئے ہدایت بھی دیتا ہے آپ تھوڑا سا مسکرائیں، ہلکا سا سر اونچا رکھیں ، ذرا دائیں طرف دیکھئے وغےرہ وغیرہ۔ پاکستان کی سیاست میں ہمیں یہ کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ سیاستدان اپنی الیکشن کیمپئن میں فوٹو سیشن کریں مگر اب یہ سلسلہ بڑھتا جارہا ہے اس کی ایک تازہ مثال ڈاکٹر طاہر القادری کی وہ تمام تصاویر ہیں جو لاہور میں نہر والی سڑک پر لگی بجلی کے ہر کھمبے پر آویزاں تھیں اوران کھمبوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان تصاویر میں یہ بھی تحریر ہے جی آیا نوں یعنی یہ پنجابی میں خوش آمدید کوکہتے ہیں۔ میں ان تصویروں کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور چودہ سو سال پہلے کے کسی واقع سے اس حمل کی مماثلت ڈھونڈ رہا تھا مگر شاید میں صغیر علم کی وجہ سے ملا نہ سکا اور یہ عمل بھی قابل تشفی نہیں تھا کہ کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے تمام اہم جہازی سائز اشتہاراتی بورڈز پر ڈاکٹر صاحب کی مخصوص تصویر جسے میڈیا کی زبان میں برینڈ پکچرز کہتے ہیں آویزاں تھیں۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی ٹی وی چینلز پر بھی پیڈ کونٹینٹ کے لوگو یعنی معرکے کے ساتھ جذباتی تقریر کے کلپس بھی بطور اشتہار چل رہے تھے کہ تیئس دسمبر کو لاہور مینار پاکستان پر بڑا جلسہ ہوگا۔ لوگوں کو لانے لے جانے، جلسہ گاہ کی تزئین و آرائش، کرسیاں، لائٹس، خاص لوگوں کے رہنے، کھانے پینے اور دیگر معاملات کے اخراجات دیکھ کر کوئی بھی ہو یہ ضرور کہے گا کہ بڑا مال لگا ہے۔
چونکہ ان دنوں لاہور میں ہونے کی وجہ سے مجھے بڑے قریب سے یہ تمام معاملات دیکھنے کا موقع ملا اور ایک بڑی دل چسپ بات میں نے ریاست بچاﺅ کیمپئن میں دیکھی کہ عام طور پر سیاسی اشتہاراتی بورڈز پر لوگ اپنے قائد کی اورجن جن سے جتنی محبت ہوتی ہے اسی سائز کی تصویر لگا کر پارٹی میں اپنی جگہ بنائی جاتی ہے مگر اس بڑی کیمپئن میں ڈاکٹر صاحب کی تصویر میں کسی بھی خرچہ کرنے والے کی تصویر نہیں دیکھی۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب سے محبت کرنے والے لوگ کم ہیں مگر جلسہ تاریخی تھا۔ اسلام آباد میں میں نے کئی بہت چھوٹے بورڈز پر جو کہ فٹ پاتھ کے ساتھ تین بائے چھ کے سائز میں ہوتے ہیں جن میں غیر معروف لوگوں کی تصویریں تھیں جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ان چھوٹی تصویروں والوں نے ڈاکٹر صاحب سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ روزانہ خبریں دیکھنے اور پڑھنے والوں سے گر میں یہ جملہ کہوں کہ ان چھوٹی تصویروں والوں نے اپنے ذاتی خرچے سے یہ بورڈز آویزاں کئے ہیں تو وہ مجھے باولے باولے کہہ کر پکاریں گے۔
لوگ مجھ سے یہ بات بھی پوچھ رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کا کاروبار کیا ہے میں نے جواب دیا پتہ نہیں۔ مگر آپ دیکھ رہے ہوں گے ان کاا چھا بڑا اور منافع بخش کاروبار ہے۔ الیکشن سے چند ماہ قبل کینیڈا سے آنا اور اٹھارہ کروڑ عوام کے غم کو اپنا غم سمجھنا یقینا اچھا عمل ہے اور دس جنوری دو ہزار تیرہ کا الٹی میٹم چودہ جنوری کواسلام میں اپنی سربراہی میں عوامی پارلیمنٹ منعقد کرنے کو ایڈورٹائزمنٹ کی زبان میں ہیمبرنگ کہتے ہیں یعنی مسلسل ہتھوڑا مارنااور اس کام کے لئے ایونٹ مینیجر بہت فنڈ مانگتے ہیں۔