World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
بلوچستان کے وزراءاور ان کی حیات زندگی
مائنڈ سیٹ

اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے، انتہائی خوبصورت اور بے شمار فطری نظاروں سے بھرپور ہے مگر یہاں بہت سی تلخ حقیقتیں بھی ہیں جس کو سامنے لانا میں سمجھتا ہوں ضروری ہے۔ ایک انتہائی غریب اور وزیروں کے رشتے دار شخص سے میری بات ہورہی تھی تو اس نے کہا میرا بھی دل چاہتاہے کہ میں اپنے بیٹے کو وزیربناﺅں اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے اور کہاں سے وزیر بننے کی تربیت ملتی ہے اور اس سلسلے میں کوئی استاد ہو یا ادارہ جہاں یہ تمام علم و فن میں اپنے بچے کو دلواسکوں تو مجھے بتائیں اور اس سلسلے میں اس نے کہامیں نے اپنا ریسرچ بھی تقریباً مکمل کرلیا ہے کچھ معلومات مزید درکار ہیں اور اپنی ریسرچ کوآپ سے شیئر کرنے کا مقصد کراس چیک کرنا ہے۔
میں نے اس سے کہا کہ آپ اپنی اس ریسرچ کوعوام کے سامنے کیوں نہیں لاتے تو موصوف نے فرمایا وزیر بننے کا سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ آپ حقیقی ریسرچ کوعوام کے سامنے نہ لائیں اور یہ جملہ کہا کریں کہ وقت آنے پر میں وہ تمام باتیں عوام کے سامنے لاﺅں گا وہ تمام راز فاش کروںگا جس کے بعد دمادم مست قلندر ہوگا۔ میں نے کہا اس فلسفے کے پس منظر میں کون سا فارمولا موجود ہے تو موصوف نے مسکرا کر کہا میرے ابھی تک ان لوگوں سے مفادات ہیں اگر میں صحیح بات کہہ دوں تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے کیونکہ میرا ایمان بھی وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہوگیاہے میں سمجھتا ہوں اگرمیں ایسا کروںتو یہ سب مل کر میری چھٹی کر دیں گے۔ میں نے اس سے استفسار کیا کہ آپ کی ریسرچ کے مطابق کون سے لوگ وزیر بنتے ہیں۔ اس نے مجھے بتایا کہ ہمارے ہاں چار کیٹیگری کے لوگ وزیربنتے ہیں۔
ایک وہ جو واقعی لوگوں کی بے پناہ خدمت کرکے عوام کے دل میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں اور ان کی یہ خدمت بے لوث ہوتی ہے اور عوام ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کو ووٹ دیتے ہیں اور یوں وہ وزیر بنتے ہیں اور آج کل اس کیٹیگری کے لوگ تقریباً نایاب ہو گئے ہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے۔ اور دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے خاندانی جاہو جلال کی بنیاد پر وزیربنتے ہیں یہ وہ کیٹیگری ہے جو سب سے زیادہ پائی جاتی ہے اور اس میں خاص بات یہ ہوتی ہے کہ یہ جتنی بھی تعلیم حاصل کرلیں یورپی دنیا میں رہیں ، بیرون ملک مہنگے کالج اور یونیورسٹیوں سے ڈگریاں حاصل کر لیں مگر ان کی سوچ چنگیزی ہوتی ہے اور یہ اپنے ووٹر کو رعایا سمجھتے ہیں اور ان کے خاندانی پس منظر کی اگر جانچ پڑ تال کریں تو کہیں نہ کہیں ان پر انگریز کی مہربانی نظر آتی ہے۔ تیسری کیٹیگری ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کو ہم مذہبی جماعتوں کی کیٹیگری کہتے ہیں ویسے تو یہ تمام انسانیت کی باتیں کرتے ہیں مگر فائدہ صرف اپنی کونسٹی ٹوئنسی کے لوگوں کو پہنچاتے ہیں تاکہ آئندہ ان کو زیادہ سے زیادہ ووٹ ملیں اور یہ لوگ اپنے کام میں سب سے زیادہ ہوشیار ہوتے ہیں۔ چوتھی اور آخری قسم بہت انوکھی ہے ان کا شمار کنفیوژ کیٹیگری میں ہوتاہے، شروع میں یہ اسکول اور کالجوں میں خود کو انقلابی سمجھتے ہیں، چے گویراجیسے لوگ ان کے ہیرو ہوتے ہیں اور یہ اپنے آپ کو کامریڈ کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، محفل میں اگر ان کو کوئی لیفٹس یا سرخہ کہہ دے تو ان کے سینے چوڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا حق مارا جا رہا ہے اوراپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے وہ تمام روایتیں، تعلیمات، انقلابیت اور اصولوں کو پیروں سے کچل کر کسی کو ان کا حق دلاسکےں یا نہ دلاسکےں مگر اپنا حق ضرور حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے پہلے بتائے گئے تینوں کیٹیگریوں سے کبھی کبھی آگے بھی نکل جاتے ہیں۔ اپنی ریسرچ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے اس نے کچھ ایسے واقعات کا ذکر کیا جو اس سے مماثلت رکھتے ہیں۔