World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
بلوچستان ،جغرافیہ،تاریخ اور حال۔۔
مائنڈ سیٹ

ایک دفعہ پھر کراچی سے لاہور جانا پڑا۔ میڈیا کمیشن پاکستان نے لاہور میں تیس دسمبر دوہزار بارہ کو ایک میٹنگ منعقد کی۔ جس کے دونوں سیشنوں میں انتہائی اہم باتوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ ایک رپورٹ پیش کی گئی کہ گزشتہ سال کتنے صحافی شہید کئے گئے، اس رپورٹ کو ہم میڈیا کمیشن رپورٹ دوہزار بارہ کہتے ہیں۔ تمام صحافیوںکی تفصیلات اس رپورٹ میں دی گئی تھیں۔ ان میں وش نیوز کے صحافی عبدالرزاق حاجی زئی جن کو سال دوہزار بارہ میں ماشکیل بلوچستان میں شہید کیا گیا کا بھی ذکر ہے۔ ایک اور خاص بات یہ طے ہوئی کہ ایک صحافی پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا کیونکہ آ ج کل پاکستان میں صحافیوں کاکام کرنا آسان نہیں رہا۔ خصوصاً بلوچستان کے صحافیوں کا۔
بورڈنگ کارڈ لینے کے بعد جب میں ایئرپورٹ پر بلوچی کتاب لینے کے لئے باہر والی دکان میں گیا اور بلوچی کتاب کا تقاضہ کیا اس بار بغیر شیو والے کتب فروش دکاندار نے کہا کہ میں یہاں ڈیڑھ سال سے نوکری کررہا ہوں آپ پہلے آدمی ہیں جو بلوچی کتاب مانگ رہے ہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ آپ اب بلوچی کتابیں رکھا کریں میں آپ سے لیا کروں گا، بہر حال اندر والے کتاب گھر میں گیا جو ٹریولر بک کلب کے نام سے منسوب ہے وہاں آج خاتون کتاب فروش بیٹھی تھیں میں نے بلوچی زبان میں کتاب مانگی انہوں نے فوری طور پر مجھے دو کتابیں دکھائیں ان میں سے ایک کتاب استاد محترم پروفیسر عزیز محمد بگٹی کی خوبصورت کتاب تاریخ بلوچستان اور دوسری ممتاز بخاری کی کتاب بجارانی قبیلہ میرے سامنے رکھ دیں۔ میرے لئے آج کا دن پچھلے دنوں سے بہتر تھا اور اس خاتون نے مجھے ایک اوراچھی خبر سنائی کہ آج مجھ سے بلوچ اور بلوچستان کے موضوع پر لوگوں نے کتابیں خریدی ہیں اور اب ہم نے بلوچ اور بلوچستان کے بارے میں کتابیں رکھنی شروع کردی ہیں۔ میرے لئے یہ بڑی خوشی کی خبر تھی میں نے خاتون سے کہا آپ بلوچی زبان میں بھی لکھی ہوئی کتابیں رکھا کریں اب آپ سے لوگ بلوچی زبان میں لکھی ہوئی کتابیں بھی لے جائیں گے۔ کتاب لے کر باہر نکلا تو سیفما کے صدر عامر محمود سے ملاقات ہوئی اور ان کے ساتھ دی نیوز کے سینئراسٹاف رپورٹر طاہر حسن خان بھی تھے۔ یہ بھی میری طرح لاہور میڈیا کمیشن پاکستان کی میٹنگ میں جارہے تھے اور میرے ہم سفر بھی تھے ،جہاز میں میں نے بجارانی قبیلے کو پڑھنا شروع کیا اپنے پیارے بلوچی قبیلے کا شجرہ نصب دیکھ اور ساتھ ہی ساتھ پڑھ بھی رہا تھا اس کتاب کے آخری صفحوں پر پرانی تصویریں بھی میری معلومات میں اضافہ کررہی تھیں ابھی کچھ صفحے پڑھے ہی تھے اتنے میں ایئر ہوسٹس نے چائے پیش کی۔
چائے کے وقفے کے بعد میں نے تاریخ بلوچستان پڑھنی شروع کی اور بلوچستان کے بیان کردہ جغرافیہ کو مختلف مصنفوں کے حدود و اربع جو اس کتاب میں دیئے گئے تھے سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔ جناب محمد سردار خان بلوچ کے مطابق ان کی کتاب ”بلوچ نسل اور بلوچستان“ میں پاکستان، ایران اور افغانستان کے بلوچ علاقوں کا کل رقبہ تین لاکھ چالیس ہزار مربع میل بتایا گیا ہے اس علاقے میں نوسو ساٹھ میل کا ساحل بھی شامل ہے اس میں کوئی شک نہیں جب کوئی ریسرچر بہت ساری کتابیں پڑھ کر موضوعوں کی باتوں کو ایک کتاب میں لے کر آتا ہے تو اسے بڑی محنت کرنی پڑی ہے اور میں پروفیسر عزیز محمد بگٹی کا احسان مند ہوں کہ انہوں نے ہم جیسے لوگوں کو پرانی کتابوں کے حوالے دے کر بلوچستان کے تاریخی معاملات کو سمجھنے میں اپنا کردار ادا کیا ۔ میر گل خان نصیر اپنی کتاب ”بلوچستان قدیم اور جدید تاریخ کی روشنی میں “ کچھ یوں لکھتے ہیں۔” بلوچستان کے نام سے اگر ہم سرزمین ایشیاءکے ان خطے کو مخصوص کریں جس میں بلوچ آبادہیں تو اس کا حدود تقریباً یہ ہوگا۔مشرق میں پنجاب میں ڈیرہ اسماعیل خان، ڈیزہ غازی خان کے ساتھ ساتھ ملتان تک اورپھر دریائے سندھ کے شمال ساحل کے ساتھ ساتھ کشمور اور جیکب آباد تک اور یہاں سے جنوب مغرب کی طرف سیہون کو چھوتے ہوئے کراچی کی بندرگاہ تک ،مغرب میں روسی، ایرانی سرحد پر، مرو اور اشک آباد کے جنوبی حد سے مشہد اور کرمان کو مغرب میں چھوڑ کر بندر عباس تک، شمال میں ڈیرہ غازی خان، شمالی کوہستان کے ساتھ ساتھ علاقہ بگٹی مری اور کھیتران کو جنوب میں رکھ کر اسی سلسلہ کو کوہت فاسل قرار دے کر کوئٹہ کے شمال پہاڑ تکتو سے گلستان کی جنوبی پہاڑوں سے ہوتی ہوئی قندھارکے جنوبی ریگستان کے ساتھ ساتھ کوہ ملک و سیاہ اور پھر وہاں سے شمال مغرب کی طرف ہرات کو شمال مشرق میں چھوڑ کرروسی، ایرانی سرحد پر مرو اور اشک آباد کی جنوبی حد تک۔ جنوب میں کراچی کی بندرگاہ سے بندر عباس تک کا تمام ساحلی علاقہ الغرض بلوچستان نام ہے۔