World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
پاکستان کے باکمال لوگ۔۔لاجواب سروس
مائنڈ سیٹ

میں اسلام آباد سے لاہور پہنچ گیا۔ چونکہ میرا تعلق میڈیا سے ہے اسی وجہ سے کافی لوگوں سے ملنا جلنا رہتا ہے۔ ان ملاقاتوں میں ہر زبان اور نسل کے لوگ ہوتے ہیں ان دنوں اسلام آباد کی سردی اور لاہور کی سردی میں مجھے کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا اس ایک ہفتے کے دوروں میں کھانسی اور سر درد میرا ہم سفر رہا۔
ہوتا یوں ہے کہ جب تجربہ نہ ہو، عمر کم ہو تو دوسروں کی باتیں یا کہانیاں بہت متاثر کرتی ہیں مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان میں کمی آتی جاتی ہے کیونکہ اب آپ لوگوں کو متاثر کررہے ہوتے ہیں یا کوئی آپ سے خود متاثر ہو رہا ہوتا ہے اس کوآپ ایسے سمجھیں کہ برے سے برے آدمی کے بچے سے اگر پوچھا جائے کہ آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ کو ن اچھا لگتاہے تو وہ صرف ایک ہی بات کہے گا کہ مجھے میرے ابو اچھے لگتے ہیں اور یہ ابو دنیا کے لئے ناسور ہوتے ہیں۔ مگر اس بچے کودنیا کا سب سے برا آدمی اچھا لگ رہا ہوتا ہے اس کی وجہ اس برے آدمی کا اپنے بچے کے ساتھ پیار و محبت اور اچھا رویہ ہوتا ہے۔ پیار و محبت یہ وہ دو چیزیں ہیں جوکبھی بانٹنے سے کم نہیں ہوتیں۔ کراچی سے چلتے وقت اکثر میں کوئی کتاب اپنے ساتھ رکھتا ہوں کیونکہ مجھے صرف سفر میں ہی کتاب پڑھنے کا موقع ملتا ہے اور میں ہمیشہ بلوچ مصنف کی لکھی ہوئی کتاب پڑھتا ہوں کیونکہ اردو اور انگلش میں لکھی ہوئی کتابیں میں زمانے سے پڑھتا ہوا آ رہا ہوں آج کل میں نے تمام تر توجہ اپنی پیاری بلوچی زبان کو سمجھنے میں سرف کر دی ہے ہوا یوں کہ میں گھر سے چلتے وقت کتاب اٹھانا بھول گیا۔
ایئرپورٹ پہنچ کر سوچا یہاں کے کسی کتاب گھر سے کوئی بلوچی کتاب خرید لونگا۔ جب میں نے بک شاپ میں نظر دوڑائی تو مجھے کونڈولیزارائس، بل گیٹس، گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ یا میں نے پاکستان بنتے دیکھا، آج کا پاکستان، پیارا پاکستان اس قسم کی بے پناہ کتابیں ملی۔ مگر وہ کتاب نہ ملی جس کی میں تلاش میں تھا۔ اسی دوران کتاب فروش نے مجھ سے پوچھا آپ کس قسم کی کتاب لیناچاہتے ہیں، میں نے کہا بلوچی میں کوئی کتاب ہو تو بتائیں۔ اس نے مسکراتے ہوئے انکار کیا کہ ہمارے پاس بلوچی میں کوئی کتاب نہیں ہے یہ جان کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ بورڈنگ کارڈ لے کر جب میں اندر پہنچا تو وہاں پر بھی کتابوں کے اسٹالز پر چلا گیا کہ شاید کوئی بلوچی کتاب مل جائے سو میں نے وزارت دفاع کے اشتراک سے قائم کی ہوئی ٹریول بک کلب میں نظریں دوڑائیں یہاں پر بھی وہی حال تھا جو میں نے باہر کے اسٹال میں دیکھا۔ بہر کیف میں کبھی قدرت اللہ شہاب کا شہاب نامہ اٹھاتا تو کبھی پروین شاکر کی کتاب۔ دکاندار نے میری بے چینی محسوس کی اور میرے لباس سے اندازہ لگایا اور بے ساختہ مجھ سے پوچھا کہ آپ کو سندھی زبان میںکتاب چاہئے وہ یہاں پر رکھی ہوئی ہے میں نے اندازہ لگایا کہ میرے اور دوسروں کے لباس میں بڑا فرق ہے اس لڑکے کوکیونکہ بلوچستان کے بارے میں کوئی علم نہیں اور ناں اس نے کبھی پڑھا ہوگا اس کو کیا معلوم بلوچ کیا ہے۔ میں نے کہا بیٹا آپ کے پاس کوئی بلوچی زبان کی کتاب ہے اس نے مجھے شک و تجسس سے دیکھا اور پریشان ہوگیا وہ ہنستا مسکراتا لڑکا کسی گہری سوچ میں پڑ گیا اور مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی کو کوئی بڑے جرم کی سزا سنائی جارہی ہو، چونکہ وہ لڑکا دکاندار بھی تھا اس نے ادھر ادھر دیکھ کر زمین پر پڑے ہوئے ڈبے میں سے مجاہد بریلوی کی کتاب بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے؟ نکال پر ٹیبل پر رکھ دی۔ میں نے غنیمت سمجھ کر کہا کہ چلو آج بریلوی صاحب کی عینک سے ہم بلوچستان کے مسئلے کو پڑھتے ہیں۔