World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
تھرڈ ڈگری
مائنڈ سیٹ

بلیدہ، دشت، واشک، مند، گندز، ردیک بارڈر وغیرہ یا اس جیسے اور بلوچستان کے بڑے علاقوں کے نام ہمارے اکثر مشہور صحافیوں کے علم میں نہیں ہیں۔ مگر نور جہاں نے کون سا گانا کس سن ءمیں گایا اس کے شاعر کون تھے، دُھن کس نے دی، کونسی فلم میں اور کس پرپکچرائز ہوا یا کس جنگ میں فوجی بھائیوں کے لئے گایا گیا، ہمہ سال ان کی برسی کون سے دن ہوتی ہے یا دیگر ان جیسے لوگوں کے بارے میں ان صحافیوں کی معلومات بہت اچھی ہوتی ہے، میرے اس آرٹیکل سے شاید اکثر صحافی یہ محسوس کرتے ہوں کہ میں لسانی بنیاد پر اس آرٹیکل کو تحریر کررہا ہوں مگر ایسا بالکل نہیں ہے۔ میں تمام صحافیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، مگر پاکستان کے 50 فیصد سے زیادہ زمین پر رہنے والوں کو یا ان کے بارے میں عام طور پر ہمارا میڈیا مکمل طورپر آگاہ نہیں ہے اور اس پاکستان کے 50 فیصد سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے علاقے کو بلوچستان کہا جاتا ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صحافت مختلف شعبوں میں کی جاتی ہے، کوئی کھیل کے میدان میں صحافت کرتا ہے اور کوئی کاروباری معاملات کوبڑی مہارت سے صحافتی انداز میں کور کرتا ہے اور بہت سے جنرل صحافت کرتے ہیں۔ کافی صحافی حضرات خود کو معلومات پر اتھارٹی سمجھتے ہیں مگر میرے تجزیے کے مطابق ایسا نا ممکن ہے کیونکہ تمام معلومات ایک شخص کے دماغ میں نہیں سما سکتیں اور میرے مشاہدے میں یہ بھی آیا ہے کہ بولنے والے صحافی لکھنے والے صحافیوں پر سبقت لے جانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ کیا آج کی صحافت بولنے والے صحافیوں کے حق میں ہے؟ میری ان چند لائنوں کی لکھی ہوئی اس تحریر سے میں کسی کو وہ تمام باتیں اور معلومات نہیں دے سکتا مگر ہمارے ہاں ایسے قابل لوگ موجود ہیں جو اس تحریر سے میرے تمام حال کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کچھ طنزیے تبصرے کرینگے، کچھ حوصلہ افزائی اور شاید کچھ میرے نام کے آگے بلوچ الفاظ کو دیکھ کر صفحہ ہی پلٹ دیں، مگر میں لکھتا اور بولتا رہوں گا۔
میں نے سنا اور اپنے سیاستدانوں میں دیکھا کہ ان میں ایک مخصوص قسم کا غرور پایا جاتا ہے وہ ایسا کہ کسی زمانے میں جب بادشاہ اپنے دربار میں بیٹھتا تو ایک مخصوص جاہو جلال میں نظر آتا ۔ اپنی کرسی اور تخت پر ایسا براجمان ہوتا کہ جیسے غرور اور تکبر کی چٹان پر بیٹھا ہواہو۔ ہمارے ہاں کچھ صحافیوں میں بھی اسی طرح کے بادشاہی اثرات پائے جاتے ہیں۔ اینکر مرد ہو یا عورت ، چاہے علمی اور تعلیمی معیار اسے اس بات کی اجازت نہ دے مگر وہ کسی نہ کسی کے نور نظر ہونے کی بنیاد پر میڈیا کی طاقتور کرسی پر بیٹھ کر خانوادہ، بزرگ یا ایسے معتبر قبائلی شخصیات اور عد ل و انصاف کو اپنا اصول سمجھ کر سرداری اور نوابی حیثیت رکھتا ہو اکثر ایسے لوگوں کے ساتھ ہمارا میڈیا انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔یہ اینکرز اپنے اسپانسر کی لائن کے مطابق ان سے سوالات کرتے ہیں اور انہیں ہمیشہ تھرڈ ڈگری کی پالیسی کے مطابق ڈیل کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کی مرضی اور منشاءیہ ہوتی ہے کہ یہ ہماری لائن پر رہیں اور دائیں بائیں نہ ہوں اور اگر دائیں بائیں ہوا تو انہیں خوبصورت طریقے سے بے عزت کیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ لوگ آپس میں باتیں کررہے ہوتے ہیں کہ اس جیسی عورتوں اورمردوں کے منہ نہ ہی لگو تو بہتر ہے، ایسا بھی دیکھا گیا ہے اور مشاہدے میں بھی آیا ہے کہ اکثر صحافی موصوف اگر آن ایئر ہوں اور اینکر دوسرے گیسٹ سے بات کررہا ہو توکیمرے کی آنکھ جو ہمیں دکھاتی ہے وہ یہ کہ تجزیہ نگار صحافی کے چہرے پر بوریت اور بیزاری صاف محسوس ہوتی دکھائی دیتی ہے اور شو کے دوران دوسروں کی گفتگو کو سننا وہ اپنی تذلیل سمجھتے ہیں کہ گویا اس چینل کے اینکر نے کون سے بے علم لوگ بلا لئے ہیں کہاں یہ لوگ اور کہاں میرا علم۔جی تو میں کہہ رہا تھا کہ تھرڈ ڈگری کی اصطلاح، عام طور پر مجرموں کے لئے استعمال ہوتی ہے اور اس کی تشریح یہ ہے کہ جب کسی چوریا ڈاکو کو پولیس پکڑ کر تھرڈ ڈگری دیتی ہے تو اس کا طریقہ کار کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ ملزم کوالٹا لٹکاکر اس کی چھتر ول کی جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ گالم گلوچ کا سلسلہ جاری رکھاجاتا ہے اور ایسی غلیظ زبان استعمال کی جاتی ہے جسے عام طورپرہم پولیس کی زبان کہتے ہیں۔ اور یوں پولیس سمجھتی ہے کہ ہم نے اس کی عزت تار تار کی اوراس پر تھرڈ ڈگری کا بھرپوراستعمال کرتے ہوئے اسے ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج کردیا اور اس سے تمام پوشیدہ راز اور معلومات لے لیں اور اس کو ایسا سبق سکھا دیا کہ آئندہ یہ ایسا کام نہیںکرے گا۔