World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
نہیں چلے گی۔۔۔مگر اب چلے گی
مائنڈ سیٹ

ہو سکتا ہے آپ مجھ سے اتفاق نہ کریں۔ میرا مقصد ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ میں کسی کی دل آزاری کروں۔ مگر جو کچھ میرے ذہن میں ہوتا ہے اسے لکھ کر سرور محسوس کرتا ہوں کہ میں نے معاشرے میں بہتری کے لئے اپنا حصہ لکھ کر ڈال دیا ہے اور اپنے احساسات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ یہ 1974-75ءکی بات ہے ، چلیں یہ بات میں آپ لوگوں کوآخر میں بتاﺅں گا ۔ ہمارے خوبصورت بلوچستان کے شہر شال جسے اب کوئٹہ کہا جاتا ہے۔ بلوچی اکیڈمی کے زیر اہتمام انٹر نیشنل لینگویج کانفرنس اور بلوچی اکیڈمی کے 50 سال مکمل ہونے پر ایک بڑا اورنہایت ہی منظم سیمینار منعقد کیا گیا۔وہاں مجھے پتہ چلا کہ بلوچی اکیڈمی کے پہلے صدر جناب حاجی محمد اقبال بلوچ صاحب تھے۔ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی، یقینا میرے والد محترم بلوچی زبان کی اہمیت کو سمجھتے تھے اور انہوں نے بلوچی زبان اور بلوچوں کے لئے ہمیشہ جدوجہد کی ۔بلوچی اکیڈمی کے سینئر ممبر منیر جان صاحب نے مجھے بلوچی اکیڈمی کی تاریخ پر لکھی ہوئی تعارفی کتاب پیش کی جس میں اس بات کا ذکر موجود تھا۔ سیمینار میں بلوچی زبان کے بڑے اور گراں قدر شاعر، ادیب، دانشور،زبان زانت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اورسب علم کی اہمیت سے آشنا تھے۔ خواتین و حضرات کے الفاظ مقرر مستقل استعمال کر رہے تھے۔ نوجوان طلباءو طالبات بھی کثرت سے موجود تھے۔ میرے اندازے کے مطابق کئی سو لوگ اس ہال میں موجود ہوں گے۔ یہ ہال سرینا ہوٹل کوئٹہ کے دل میں واقع ہے
ہال کے باہربلوچی اکیڈمی نے اپنی کتابوں کے اسٹال بھی لگائے ہوئے تھے اورلوگ ان کتابوں سے فیض یاب بھی ہو رہے تھے۔ میں کچھ تاخیر سے کھچا کھچ بھرے ہوئے سیمینار ہال میں داخل ہوا۔ سیمینار میں مقررین اپنی تقاریر کررہے تھے میں عقبی دروازے سے ہال کے اندر داخل ہوا۔ ہال میں داخل ہونے سے پہلے مجھے کئی لوگ دیکھ کر مسکرائے اورخوشی کا اظہار کر رہے تھے ان میں منیر جان صاحب بھی شامل تھے۔ ہال میں داخل ہوا تو لوگوں نے مجھے بقول انگلش وارم ویلکم کیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے یہ سب لوگ میرے انتظار میں ہوں ۔میں نے اپنی عادت کے مطابق سب سے آخری لائن کی کرسیوں پر نظر دوڑائی جوہال کی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی کہ کوئی کرسی خالی مل جائے۔ ویسے میں علم کے حصول کے لئے عالموں اور استادوں کے جوتوں کے برابر میں بیٹھنا بھی فخر محسوس کرتاہوں۔ اسی نظریے کے تحت میں عقبی دروازے سے داخل ہوا اور آخری نشستوں پر اپنی جگہ تلاش کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کہیں میری وجہ سے اس علمی سیمینار میں کوئی گستاخی نہ ہوجائے۔
ہر آنکھ مجھے خوش آمدید کہہ رہی تھی۔ جلد آخری لائن کی کرسیوں میں کچھ قریبی دوستوں نے میرے لئے کرسیاں آگے پیچھے کرکے بیٹھنے کی جگہ بنادی۔ جس پر میں نے اللہ کاشکر ادا کیا کہ اس نے مجھے بڑی عزت دی جبکہ اکثر لوگوں کے پاس بیٹھنے کے لئے کرسی بھی نہیں تھی۔ میں نے دیکھا کہ سیمینار کے تقدس کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے لوگوں نے اپنے موبائل فون کی گھنٹی بند کررکھی تھی۔ جب کسی کو یہ احساس ہوتا کہ انتہائی اہم فون ہے تو وہ سیمینار کے احترام میں فون ہال کے باہر جا کر سن رہا ہوتا تھاجو یقینا اچھا عمل تھا۔ اس وقت میں اپنے آپ کو علم کے دریا میں ایک تیلی کی مانند محسوس کر رہا تھا اور تمام تر توجہ مقررین کوسننے کےلئے سرف کررہا تھا اسی دوران ایک شخص میرے پاس آیا اورمجھ سے کہا کہ آپ آگے آجائیے، میں نے کہا کہ آگے جگہ نہیںہے اورسیمینار میں خلل بھی پڑھ سکتا ہے میں اپنی جگہ پر ٹھیک ہوں میری ان تمام حضر پیش کرنے کے باوجود اس نے میری ایک نہ سنی اورمجھے اپنے ساتھ پہلی کرسیوں کی صف میں لے گیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں اگلی صف میں بیٹھنے کے قابل نہیں ہوں کیونکہ بلوچی زبان کے عظیم شاعر، ادیب، دانشور، زانتکار وہاں تشریف فرما تھے اور اگر میں یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ دنیا بھرسے بلوچ دانشور اگلی کرسیوں کی صف میں ایک قطار میں بیٹھے ہوئے تھے اورجن عظیم لوگوں کے پاس مجھے اس شخص نے بٹھانے کی کوشش کی وہ انتہائی قابل احترام شخصیات تھیں۔ ان میں استاد محترم بیگ محمد بیگل صاحب، استاد ظفرعلی ظفر صاحب، استاد جی آر ملااور استاد علی عیسیٰ شامل تھے اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں کسی کہکشاں میں پہنچ گیا ہوں جہاں ستارے میری دسترس میں ہیں اور چمکتے ستاروں کی روشنی کی وجہ سے میں بھی سیاہی سے روشنائی میں تبدیل ہو رہا ہوں۔ ان صاحب نے مجھے ان بڑے لوگوں کے درمیان بٹھا دیا اور میرے عظیم استادوں نے مجھے اپنے پاس پا کر خوشی کا اظہار کیا جو میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ جس پر میں نے پھر اللہ کاشکر ادا کیا کہ اس نے مجھے کم عرصے میں اورکچھ نہ کرنے پر یہ اعزاز بخشا۔