World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
بلوچستان کی بلی
مائنڈ سیٹ

کچھ چیزیں ایسی ہیں جوانسان کے لاشعور سے پیوستہ ہوتی ہیں اور انسان کو اس وقت یاد آتی ہیں جب۔۔۔چلو اسے ایسا سمجھتے ہیں کہ کوئی چیز اس کے سامنے آجائے تو دماغ کے تمام خلیے بھرپور اشارہ کرتے ہیں کہ اس سے تمہاری وابستگی ہے۔ جب ہم اپنے گھر کی بلی جسے عام طورپر جنگلی بلی کہتے ہیں اور جس کے وجود کوگھر میں اکثر مصیبت سمجھا جاتا ہے ہر ایک اس کو کوستا ہے کہ یہ مصیبت کم بخت، منحوس ، نہ کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی جیسے مختلف القاب سے پکارتا جاتا ہے کبھی زور زور سے پاﺅں زمین پر مارتے ہوئے ہش ہش کہہ کر ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی تالیاں بھی خوب بجا کر اس کم بخت بلی کو بھگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ارے دیکھو بیٹا۔۔یہ کم بخت باورچی خانے میں نہ چلی گئی ہو، دودھ کے برتن کا منہ کھلا ہوا ہے کہیں یہ منحوس اس میں منہ نہ مار دے، بہن اسے گھر میں ایسے نہ رہنے دیاکرو۔ بچوں کواس سے الرجی ہو جاتی ہے اور سانس لینے میں دشواری بھی۔ اس منحوس کو زہر دے کر اپنی جان کیوں نہیں چھڑاتی ہو۔ماسی۔۔ او ماسی، دیکھو اس مصیبت بلی نے قالین ناپاک کر دیا، گھر میں مچھلی وغیرہ پکالو تو یہ میاﺅں میاﺅں کرکر کے سر میں درد کر دیتی ہے، سارا دن آوارہ گردی کرتی رہتی ہے، کبھی اس گھر میں تو کبھی کسی گھر میں۔ اس کی کھال کا رُواں اگر کسی کی ناک میں چلا جائے تو وہ بیمارہو جاتا ہے۔ بچوں کو خاص طورپر اس سے دور رکھا کرو۔ پتہ نہیں اس کوکیسے کھانے کی خوشبو آ جاتی ہے اب تو یہ فریج بھی کھول لیتی ہے۔ باجی اس بلی کم بخت نے کچرے کی بالٹی الٹادی۔ جس شاپر میں تم رات کو کچرا ڈال کر گئی تھیں اس کو پھاڑ کر سارا کچرا پھیلا دیا ۔ باجی میں روز روز اس منحوس کے پھیلائے ہوئے کچرے کو صاف کروں یا کوئی دوسرا کام کروں۔ کسی زمانے میں یہ باہر پڑے ہوئے کچرے کے ڈبے میں منہ مار کر کچھ کھا لیتی تھی اب بلی میڈم کی ساری نظریں ہمارے کچن پر ہوتی ہیں۔ باجی بات دراصل یہ ہے کہ اب لوگ مہنگائی کی وجہ سے بڑے کنجوس ہوگئے ہیں۔ کئی کئی دن کا کھانا فریج میں رکھ لیتے ہیں اب بھوک کی ماری بلی کیا کرے۔ ماسی گلاس دھوکر پانی لانا اس کم بخت نے کہیں اپنا منہ گلاس میں نہ مار دیا ہو۔ اس بدبخت کی وجہ سے میرا کام ڈبل ہو گیا ہے، لو یہ پھر آ گئی۔ ہش ہش، ارے باجی یہ صوفے کے پیچھے چھپ گئی، جاﺅ جھاڑو یا ڈنڈا لے کر آﺅ اس کو ابھی سیدھا کرتے ہیں ۔
نہیں نہیں بیٹا ایسا نہیںکرتے یہ اللہ کی مخلوق ہے۔ دادی اماں آپ ہی کی وجہ سے اس نے ہمیں مستقل پریشان کر رکھا ہے۔ ہمارے گھر میں اس نے ڈیرے ڈال لئے ہیں، ایسا نہ کہو بیٹا ہو سکتا ہے جس جگہ پر ہم نے اپنا گھر بنا لیا ہے وہ پہلے اس کی جگہ ہو، چونکہ اس کا دل بڑا ہے ہم نے اس کی جگہ پر قبضہ کر لیا ہے مگر یہ کچھ نہیں کہتی۔ دادی اماں دو ماسیاں کام چھوڑ کر جا چکی ہیں اس اللہ کی مخلوق کی وجہ سے۔ اب تیسری بھی تنگ ہو چکی ہے۔ دادی اماں آپ اجازت دیں تو پڑوس والی آنٹی کی طرح ہم اس کو زہر دے کر مار دیںیا سامنے والے میجر صاحب کے بیٹے کو کہہ دیں کہ اس کو گولی مار دے۔نہیں نہیں بیٹا ایسا نہیںکرنا اگر ایسا کیا تو اللہ کو اس کا حساب دینا ہوگا۔ صرف ایک آپ ہی ہیں جو اس کی طرفداری کرتی ہیں۔ پچھلے دنوں جب آپ تربت گئی ہوئی تھیں تو یہ بھی ہمارا گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی، بیٹا اس کا کوئی خیال نہیں رکھتا ہوگا اسے کوئی کھانا وغیرہ نہیں دیتا ہوگا اس لئے یہ اوروں کے گھر جا کر اپنے پیٹ کی آگ بجھاتی ہوگی۔ تم اس کے اتنے خلاف کیوں ہو یہ اللہ کی مخلوق ہم سے کیا مانگتی ہے۔ رات اور برسات میں سونے کی جگہ، اسٹور یا پچھواڑے میں اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کی جگہ۔ دادی اماں ویسے تو آپ صحیح کہہ رہی ہیں جب یہ گھر میں نہیں ہوتی تو ہمیں تنہائی کا احساس ہوتا ہے اور جب اس بلی کے بچے چھوٹے ہوتے تھے تو ہم اس سے خوب کھیلا کرتے تھے اور یہ بچپن میں ہماری خوشیوں کی ساتھی تھی اور ہمیں اس سے ناں تو کوئی بیماری ہوئی ناں الرجی۔
بیٹا یہ بلوچستان کی بلی ہے اگر یہ کسی اور ملک کی بلی ہوتی تو ہم اس کو اپنے سینے سے لگا کررکھتے کہ یہ ہماری شان ہے اور ہماری جان ہے۔تم کتنے تنگ نظر ہو گئے ہوکہ بلیوں میں بھی فرق رکھتے ہو۔ دادی مگر بلیاں تنگ بھی بہت کرتی ہیں، بیٹا یہ آپ سوچتے ہو۔انسان کو جس سے محبت ہوتی ہے جس کی قدر ہوتی ہے اس کی ہر ادا اچھی لگتی ہے، جیسے اپنا بچہ کپڑے ناپاک کر دے تو ہم کہتے ہیں، ارے میرا پیارا بچہ میں تمہیں ابھی نئے کپڑے پہنا دیتی ہوں اور اگر کسی کام کرنے والی ماسی کا بچہ پانی بھی گرا دے تو آپ کوبڑا غصہ آ جاتاہے۔ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ہمارے نبی کو بلیوں سے بے انتہا محبت تھی۔ ایک دن ان کی چادر پر ایک بلی سوگئی تو انہوں نے چادر کا وہ حصہ کاٹ دیا جس پر بلی سو رہی تھی مگر بلی کی نیند خراب نہیں کی وہ صرف محسن انسانیت نہیں تھے بلکہ اللہ کی بنائی ہوئی ہر مخلوق کی قدرکرتے تھے اور ایسے ہی ایک صحابی کو نبی نے ابوہریرہؓ کے لقب سے نوازا۔ کیونکہ ان صحابی کو بلیوں سے بہت محبت تھی۔ ہِر عربی میں بلی کو کہتے ہیں اور حضرت ابو ہریرہؓ سے بہت ساری حدیثیں وابستہ ہیں۔ بیٹا یہ بلی اس گھر کی بلی ہے اس لئے آپ کو پسند نہیں۔ وہ کہتے ہیں ناں گھر کی مرغی دال برابر۔ بیٹا جب سے میں تربت سے واپس خاران پہنچی ہوں توبلی کی میاﺅں میاﺅں کی آوازسننے میں نہیں آ رہی تھی میںنے محسوس کیاجیسے میرا دل اداس ہوگیاہو۔ چلو بیٹا مارکیٹ چلتے ہیں کچھ سودا سلف لے آتے ہیں، شاید وہاں ہمیں بلیاں دیکھنے کو مل جائیں۔