World's First Balochi Tv News Channel
تحریر:احمد اقبال بلوچ
مسخ شدہ لاش اور ماں
مائنڈ سیٹ

ایسا نہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔۔ اچھا انسان تھا۔۔ ابھی تو وہ نوجوان تھا۔۔ اللہ اسے جنت الفردوس میں جگہ دے۔۔ بس اللہ کی یہی رضا تھی۔۔ آپ ہمت نہ ہاریں اللہ کا مال تھا۔۔ اللہ اپنے محبوب بندے کو فوراً اپنے پاس بلا لیتا ہے۔۔ نوجوان بہت خوبصورت اور بہت خوب سیرت تھا۔۔ کبھی کسی کے ساتھ ناجائز نہیں کرتا تھا۔۔ میں یہاں سے گزر رہا تھا تو گھر کے سامنے چھوٹا سا شامیانہ دیکھ کر پریشان ہوگیا۔۔ اللہ خیر کرے کیا ہو گیا ہے۔۔ کس کا انتقال ہوا ہے۔۔ بلوچ صاحب کے نوجوان بیٹے کا۔۔ کون سے والے کا۔۔ بڑے والے کا۔۔ یا اللہ خیر۔۔ وہ تو بالکل صحت مند تھا۔۔ کیسے انتقال ہوا۔۔
ابھی کچھ دن پہلے توجمعہ کی نماز میں مسجد میں ملاقات ہوئی تھی۔۔ یقین نہیں آ رہا ایسا لگتا ہے یہیں کہیں ہے اور آ جائے گا۔۔ اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔ سنا تھا کہ وہ قلات گیا ہوا ہے۔۔ ہاں پچھلے دنوں اپنے تعلیمی سلسلے کی وجہ سے وہ وہیں پر تھا۔۔ جی ہاں آپ نے صحیح سنا تھا اور آپ نے اخبار اور ٹی میں ضرور دیکھا اورپڑھا ہوگا کہ بلوچ صاحب کا بیٹا لاپتہ ہوگیا ہے۔۔ ہاں ہاں اللہ اکبر۔۔ میرے ذہن میں یہ بات نہیں آئی کہ یہ یلوچ صاحب کا لڑکا ہے۔۔
السلام و علیکم:۔۔ بلوچ صاحب ہمت سے کام لیں یہ آپ کا بیٹا نہیں تھا ہم سب کا بیٹاتھا۔۔ آپ کو اپنے سینے سے لگا کرمیں آپ کے درد کو اپنے دل میں محسوس کررہا ہوں۔۔ ہم روز دعا کرتے تھے کہ اللہ کرے آپ کا بیٹا خیریت سے گھر آ جائے۔۔ آج کل ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں کسی کی جان و مال محفوظ نہیں۔۔ دن بدن نوجوانوں کا لاپتہ ہونا اور مسخ شدہ لاشوں کا ملنا یہ تو یزیدیت کا دور لگتا ہے۔۔ میری بیوی ہمیشہ پریشان رہتی ہے اگر بیٹے کے آنے میں ذرا سی دیر ہو جائے تو اس کا برا حال ہوجاتا ہے اگرکوئی ایسی خبر سن لے کہ کوئی نوجوان قتل ہوا ہے تو اس کا ذہنی توازن برقرار نہیں رہتا اور وہ رو رو کر بارگاہ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر یہ فریاد کرتی ہے کہ اللہ کسی ماں کو اس امتحان میں نہ ڈالے کہ وہ جیتے جی مر جائے۔۔ بلوچ صاحب آپ کے صبر کو دیکھ کر واقعی پتہ چلتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ پر کس حد تک بھروسہ کرتے ہیں اور آپ بلوچی روایات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی آنکھوں سے آنسوبھی نہیں بہا رہے۔ مگر آپ کی آنکھوں میں جو نمی میں دیکھ رہا ہوں وہ سمندر کی مانند ہے۔۔بلوچ صاحب کی آنکھوں میں جو نمی ہے اسے انہوں نے آنسو بہنے سے روکا رکھا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کو اللہ کی طرف سے بشارت ہوئی ہے کہ ان کا خوبصورت نوجوان بیٹا وطن کی خاطر شہید ہوگا اور شہید ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ لوگوں کے قرآن پڑھنے کی تلاوت کی آواز گواہی دے رہی ہے کہ یہ نوجوان اللہ کا نیک بندہ تھا۔۔ آئیے آئیے آیت کریمہ پڑھ کر بلوچ صاحب کے نوجوان بیٹے کو بخشیں۔۔ آہ ہ ۔۔عجیب بات ہے قاتل اور مقتول دونوں مسلمان ہیں اور ایک ہی کلمہ گو ہیں۔۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مارنے والا مسلمان ہے۔۔ جناب یہاں پر دو قسم کے لوگ لوگوں کو مار رہے ہیں، ایک وہ لوگ ہیں جو آپ کی سیاست سے اتفاق نہیں کرتے دوسرے وہ لوگ ہیں جن کے پاس کسی کو بھی قتل کرنے کا لائسنس ہے۔۔ جو ملک کے تمام قانون سے بالاتر ہیں۔ ہاں آپ صحیح کہہ رہے ہیں یہی بات ہے۔۔ جناب جب نا انصافیاں حد سے بڑھ جائیں اور مظلوم آواز اٹھائے اوراپنے حق کی بات کرے تو اس کی آخر ی منزل بغاوت ہی ہوتی ہے اور بغاوت دو طاقتوں کے درمیان جنگ کو کہتے ہیں اور دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ہمیشہ دو نظریے آپ کو نظر آئیں گے۔ ایک یزیدیت اور دوسرا حسینیت۔۔ اگر طاقتور تمام ترمراعات دے بھی دے اور اپنی یزیدی سلطنت کو قائم رکھنے کی تمام کوشش کرے مگر حق کی صحیح تشریح صرف حسینیت کے فلسفے میں ملتی ہے اور حق کیا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی واحدانیت اور اس کو طاقت کا منبہ سمجھنا۔۔ وتعز و من تشاءوتذل و من تشاء(یعنی اللہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے)۔ حسینیت سے جو ہمیں سبق ملتا ہے وہ یزیدیت کے سامنے سر خم نہ کرنا ہے اور ایسی طاقت کے ہاتھوں بیعت نہ ہونا جو خود کو طاقت کا سر چشمہ سمجھتا ہو۔